سیر روحانی — Page 512
۵۱۲ سادہ تعلیم پر کاربند رہنے کا حکم دیتے تو دنیا میں شاید ایک ولی محمدی ممکن ہے کہ ایک شہید محمد پیدا ہو جاتا جو عرب کے گرجا کی بنیا د رکھنے والا قرار پاتا، لیکن جہاں تک انسانی عقل کام دیتی ہے کہا جا سکتا ہے کہ اس صورت میں آپ کی تعلیم عرب کے دل کی گہرائیوں میں تلاطم پیدا نہ کر سکتی اور سارا عرب تو الگ رہا اس کا کوئی معقول حصہ بھی آپ کے دین میں داخل نہ ہوتا ، لیکن باوجود ان تمام باتوں کے آپ نے اپنے انتہائی کمال کے ساتھ ایک ایسی گل ایجاد کی کہ جسکی موقع کے منا سب ڈھل جانیوالی قوت کے ساتھ آپ نے آہستہ آہستہ عرب قوم کی پراگندہ اور شکستہ چٹانوں کو ایک متناسب محل کی شکل میں بدل دیا اور ایک ایسی قوم بنا دیا جس کے خون میں زندگی اور طاقت کی لہریں دوڑ رہی تھیں۔ایک عیسائی کو وہ عیسائی نظر آتے تھے ، ایک یہودی کی نگاہ میں وہ ایک یہودی تھے ، ایک مکہ کے بُت پرست کی آنکھ میں وہ کعبہ کے اصلاح یافتہ عبادت گزار تھے اور اس طرح ایک لاثانی ہنر اور ایک بے مثال دماغی قابلیت کے ساتھ انہوں نے سارے عرب کو خواہ کوئی بت پرست تھا، یہودی تھا کہ عیسائی تھا مجبور کر دیا کہ وہ ان کے قدموں کے پیچھے ایک سچے مطیع کے طور پر جس کے دل سے ہر قسم کی مخالفت کا خیال نکل چکا ہو چل پڑے۔یہ فعل اُس صناع کا ہوتا ہے جو اپنا مصالح آپ تیار کرتا ہے اور یہاں اس مصالح کی مثال چسپاں نہیں ہوتی جو کہ آپ ہی آپ بن جاتا ہے اور اس مصالح کے ساتھ تو اس کو بالکل ہی کوئی مشابہت نہیں جو اپنے صناع کو خود تیار کرتا ہے یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ذات تھی جس نے اسلام بنایا یہ اسلام نہیں تھا اور نہ کوئی اور پہلے سے موجود اسلامی روح تھی جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بنایا۔۱۳۹۴ سرولیم میور چونکہ اسلام کا شدید مخالف تھا اس لئے گو اُس نے یہ کہا کہ اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تیار کردہ ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس صداقت کا بھی اُس نے کھلے بندوں اقرار کیا کہ دنیا نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا نہیں کیا بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نئی دنیا پیدا کی ہے اور یہ کام یقیناً خدا تعالیٰ کے فرستادوں کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا۔