سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 900

سیر روحانی — Page 503

۵۰۳ دن آرام کیا اور تازہ دم ہوا۔۱۱۲ گویا خدا تعالیٰ چھ دن کام کرنے کی وجہ سے نَعُوذُ بِاللہ تھک گیا اور اُسے ضرورت محسوس ہوئی کہ وہ آرام کرے اور تازہ دم ہو جائے ، مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ خدا تعالیٰ کے متعلق یہ تصور بالکل غلط ہے اس لئے کہ وہ کوئی مادی وجود نہیں جو کام کا بوجھ برداشت نہ کر سکے اور تھکان اور کوفت محسوس کرے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبِ۔یعنی زمین و آسمان کی پیدائش سے ہمیں کوئی تھکان محسوس نہیں ہوئی۔پس یہ بات بالکل غلط ہے کہ خدا تعالیٰ زمین و آسمان کی پیدائش سے تھک گیا اور ساتویں دن اُس نے آرام کی احتیاج محسوس کی۔اسی طرح مسیحیت نے خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر حملہ کیا اور مسیح اور روح القدس کو بھی اُس کی الوہیت میں شریک قرار دے دیا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کو تمام مادی قیدوں اور ظہوروں سے پاک قرار دیا اور پھر آپ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ انسان اگر خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرے تو وہ خدا تعالیٰ کی محبت کو حاصل کر سکتا اور اس کے قرب میں بڑھ سکتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے جن و انس کو صرف اس لئے پیدا کیا کہ وہ خدا تعالیٰ کی صفات کا نقش اپنے دل پر پیدا کریں۔۱۱۴ اسی طرح وہ ایک دوسری جگہ فرماتا ہے۔اے انسانو! اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تم کو اس دنیا میں اپنا نمائندہ بنا کر کھڑا کیا ہے اگر تم میں سے کوئی شخص اس مقام کا انکار کرے گا تو اُس کا نتیجہ اُس کو بھگتنا پڑے گا ۱۱۵ یعنی اس عزت کے مقام کو چھوڑ کر وہ خود ہی نقصان اُٹھائے گا خدا تعالیٰ کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔اسی طرح ایک اور جگہ اس نے فرمایا ہے۔کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں ہم یقیناً انہیں اپنی بارگاہ تک پہنچنے کے راستے بتا دیتے ہیں۔۱۱۲ پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جاہ وجلال کو بھی قائم کیا اور بنی نوع انسان کو بھی اس امر کا یقین دلایا کہ وہ خدا تعالیٰ کے مقرب بن سکتے ہیں۔ملائكة اللہ اسی طرح ملائکہ بھی ایک مخفی وجود ہیں جن کی حقیقت کا علم بغیر کسی ایسے انسان کی راہنمائی کے حاصل نہیں ہو سکتا جسے خدا خود اپنے غیب سے حصہ دے اور بتائے کہ ملائکہ کی کیا حقیقت ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد چونکہ اللہ تعالیٰ