سیر روحانی — Page 504
۵۰۴ نے تلاوت آیات کا کام کیا تھا اس لئے آپ نے اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علم کے ماتحت ان کے متعلق بھی بنی نوع انسان کی صحیح راہنمائی فرمائی اور بتایا کہ ملائکہ نظامِ عالم کے روحانی اور جسمانی سلسلہ کی اُسی طرح ایک اہم کڑی ہیں جس طرح دوسرے نظر آنے والے اسباب مادی دنیا میں مختلف کاموں کی کڑیاں ہیں۔وہ صرف خدائی دربار کی رونق کا سامان نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے تکوینی احکام کی پہلی کڑی ہیں اور ان کے بغیر اس کا ئنات کا وجود ادھورا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ اسی حقیقت کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم میں فرماتا ہے۔کہ کچھ تو وہ ملائکہ ہیں جو عرش کو اُٹھائے ہوئے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو عرش کے ارد گرد رہتے ہیں لا یعنی ایک تو وہ فرشتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرنے والے ہیں اور جن کے ذریعہ دنیا میں احکام الہیہ کا اجراء ہوتا ہے اور ایک وہ ہیں جو اُن احکام کو نچلے طبقہ تک لے جانے والے ہیں ، پس ملائکہ کا وجود اس عالم کا ایک اہم ضروری حصہ ہے۔رسالت اور کلام الہی کی ضرورت آپ نے رسالت اور کلام الہی کی ضرورت کو بھی واضح کیا اور بتایا کہ جس طرح مادی دنیا میں خدا تعالیٰ نے صرف آنکھ پیدا نہیں کی بلکہ لاکھوں میل کے فاصلہ پر ایک سورج بھی پیدا کر دیا ہے تا کہ آنکھ اس کی روشنی سے فائدہ اُٹھائے اسی طرح روحانی عالم میں بھی خدا تعالیٰ نے سورج اور چاند اور ستارے بنائے ہیں۔جو شخص روحانی دنیا کے سورج یا روحانی دنیا کے چاند یا روحانی دنیا کے ستاروں کی ضرورت کا انکار کرتا ہے وہ قانونِ قدرت سے اپنی آنکھیں بند کرتا اور حقائق سے روگردانی اختیار کرتا ہے چنانچہ اسلام نے اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا ہے۔کہ ہم تمہارے سامنے اس آسمان کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو مختلف بروج والا ہے ۱۱۸ یعنی جس طرح تمہیں اس مادی دنیا کے آسمان میں سورج اور چاند اور ستارے دکھائی دیتے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ نے روحانی عالم میں بھی ظلمتوں کو دور کرنے کے لئے سورج اور چاند اور ستارے بنائے ہیں جو لوگوں کو اپنے نور سے منور کرتے رہتے ہیں۔بعث بعد الموت آپ نے اس سلسلہ میں بعث بعد الموت پر بھی روشنی ڈالی کیونکہ اس کے متعلق بھی کوئی انسان اپنی ذاتی کد و کاوش سے معلومات حاصل نہیں کر سکتا تھا آپ نے ایک طرف تو جزاء وسزا کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور دوسری طرف یہ بتایا کہ اس جزاء کا مخفی رکھا جانا بھی ضروری ہے ورنہ انسانی اعمال غیر اختیاری ہو جائیں اور جزاء