سیر روحانی — Page 26
۲۶ فرض ہو کہ وہ اس سزا کو بخوشی برداشت کرے، جب یہ حس اس میں ترقی کر گئی اور وہ قانون کے تابع ہونے کا اہل ہو گیا تو اُس وقت انسانِ کامل بنا اور قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ جب انسانوں کی کے اندر یہ مادہ پیدا ہو گیا کہ وہ نظام اور قانون کی پابندی کریں اور انسانی دماغ اپنی تکمیل کو پہنچ گیا تو اُس وقت سب سے پہلا شخص جس کا دماغ نہایت اعلیٰ طور پر مکمل ہو ا اُس کا نام آدم تھا۔گویا آدم جو خلیفہ اللہ بنا وہ نہیں جس کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اسے مٹی۔گوندھا اور پھر اس میں پھونک مار کر اُسے یکدم چلتا پھرتا انسان بنا دیا بلکہ جب انسانوں میں حمد نی روح پیدا ہو گئی تو اُس وقت جو شخص سب سے پہلے اس مقام کو پہنچا اور جس کے دماغی قوی کی تکمیل سب سے اعلیٰ اور ارفع طور پر ہوئی اُس کا نام خدا تعالیٰ نے آدم رکھا ، مگر جب دیر سے ایک طریق چلا آ رہا ہو اُس میں تبدیلی لوگ آسانی کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتے اسی لئے جب کامل انسانیت کی ابتداء ہوئی ناقص انسانوں کا بقیہ اس کے ساتھ تعاون کرنے سے قاصر تھا کیونکہ گوان میں عقل تھی مگر مادہ تعاون و تمدن ان میں مکمل نہ تھا۔پس یقیناً اُس وقت بہت بڑا فساد ہوا ہو گا جیسے اگر ایک سیدھا ہوا گھوڑا بے سدھے گھوڑے کے ساتھ جوت دیا جائے تو دونوں مل کر کام نہیں کر سکتے۔بے سدھا گھوڑا لاتیں مارے گا ، اُچھلے گا ، کو دے گا اور وہ کوشش کرے گا کہ نکل کر بھاگ جائے اسی طرح اُس وقت بعض لوگ متمدن ہو چکے تھے اور بعض کہتے تھے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم اکٹھے رہیں اور قانون کی پابندی کریں۔لفظ آدم میں حکمت قرآن کریم نے جو پہلے کامل انسان کا نام آدم رکھا تو اس میں بھی ایک حکمت ہے عربی زبان میں آدم کا لفظ دو مادوں سے نکلا ہے ، ایک مادہ اس کا ادیم ہے اور ادیم کے معنے سطح زمین کے ہیں اور دوسرا مادہ اُدمہ ہے اور اذمہ کے معنے گندمی رنگ کے ہیں۔پس آدم کے معنے سطح زمین پر رہنے والے یا گندمی رنگ والے کے ہیں اور دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے کیونکہ کھلی ہوا اور زمین پر رہنے کی وجہ سے دھوپ کے اثر سے اس کے رنگ پر اثر پڑا۔حقیقت یہ ہے کہ جب آدم کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے تمدن کی بنیاد رکھی تو اُس وقت آدم اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ بجائے زمین کی غاروں میں رہنے کے ہمیں سطح زمین کے اوپر رہنا چاہئے اور پندرہ پندرہ بیس ہیں گھروں کا ایک گاؤں بنا کر اس میں آباد ہو جانا چاہئے اس سے پہلے تمام انسان غاروں میں رہتے تھے اور چونکہ سطح زمین پر ا کیلے اکیلے رہنے کی