سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 900

سیر روحانی — Page 394

۳۹۴ رہتا کہ فلاں شخص نے مصیبت اور تکلیف میں ہماری خدمت سرانجام دی تھی۔ہمارے ایک دوست ہیں مجھے ہمیشہ ان پر جنسی آیا کرتی ہے لیکن ان کے استقلال کو دیکھ کر تعجب بھی آتا ہے۔انہوں نے گزشتہ جنگ میں کچھ رنگروٹ دیئے تھے افسروں نے انہیں خوب شاباش دی اور انہیں یہ امید پیدا ہوگئی کہ جنگ کے خاتمہ پر میری اس خدمت کے بدلہ مجھے انعام کے طور پر کوئی زمین دیدی جائے گی جب جنگ ختم ہو گئی اور وہ کسی افسر سے ملنے کے لئے جاتے تو بعض دفعہ پیغام آجاتا کہ ہمیں ملنے کی فرصت نہیں اور بعض دفعہ یہ کہدیا جاتا کہ صاحب بہادر اندر نہیں ہیں۔مگر آدمی ہمت والے تھے انہوں نے چٹھیاں لکھتے لکھتے وائسرائے تک معاملہ پہنچا دیا۔وائسرائے نے اُن کی درخواست پر لکھا ڈیفنس سیکرٹری فوراً کارروائی کرے۔ڈیفنس سیکرٹری نے وہ درخواست گورنر کو بھجوا دی۔گورنر نے کمشنر کے پاس بھیجوا دی کمشنر نے ڈپٹی کمشنر کے پاس پہنچا دی۔ڈپٹی کمشنر نے ریوینیو آفیسر کے پاس پہنچا دی اور معاملہ پھر وہیں کا وہیں رہا۔انہوں نے پھر اپنی درخواستیں نیچے سے اوپر پہنچانی شروع کیں اور افسروں نے پھر اسی طرح ان کی درخواستیں اوپر سے نیچے بھجوائی شروع کر دیں۔غرض اسی تگ و دو میں ان کے کئی سال گزر گئے مگر انہیں مربع آج تک نہیں ملا بلکہ سیب کا مرتبہ بھی نہیں ملا۔مگر اس گورنمنٹ کو دیکھو کہ یہ بھولتی نہیں بچپن میں ایک لفظ سیکھا جاتا ہے اور بڑے ہو کر برابر وہ سیکھا ہو ایا د رہتا ہے یہ کبھی نہیں ہوا کہ کوئی چیز سیکھی ہوئی ہو اور پھر وہ دماغ کے کسی گوشے میں محفوظ نہ رہے بلکہ اس حفاظت کا یہ حال ہے کہ فرانس میں ایک دفعہ ایک لڑکی کو دورے پڑنے شروع ہوئے جب اُسے دورہ پڑتا تو وہ جرمن زبان میں بعض مذہبی دعائیں پڑھنا شروع کر دیتی۔وہ فرانسیسی لڑکی تھی اور جرمن زبان کا ایک حرف بھی نہیں جانتی تھی۔جب دورے میں اس نے جرمن زبان میں باتیں شروع کیں تو ڈاکٹروں نے شور مچا دیا کہ اب تو جن ثابت ہو گئے۔یہ لڑکی تو جرمن زبان نہیں جانتی یہ جو جرمن زبان بول رہی ہے تو ضرور اس کے سر پر جن سوار ہے۔آخر ایک ڈاکٹر نے اس کے متعلق تحقیقات شروع کی وہ حافظہ کا بہت بڑا ماہر تھا۔جب اُس نے تحقیق کی تو اسے معلوم ہوا کہ جب یہ لڑ کی دو اڑھائی سال کی تھی تو اُس وقت اس کی ماں ایک جرمن پادری کے پاس ملازم تھی۔جب وہ پادری جرمن زبان میں سرمن پڑھتا تھا تو یہ لڑ کی اُس وقت پنگھوڑے میں پڑی ہوتی تھی۔جب اُسے یہ بات معلوم ہوئی تو وہ اس جرمن پادری کی تلاش میں نکلا اسے معلوم ہوا کہ وہ جرمن پادری اس وقت پین میں ہے۔پین پہنچنے پر اسے معلوم ہوا کہ وہ پادری