سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 900

سیر روحانی — Page 349

۳۴۹ ابو ہریرہ یعنی واہ واہ ! تیری بھی کیا شان ہے کبھی تو سر میں جوتیاں پڑا کرتی تھیں اور آج یہ حالت ہے کہ تو کسری شہنشاہ ایران کے رومال میں تھوکتا ہے۔لوگوں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کہا؟ اس پر انہوں نے یہ واقعہ سنایا کہ میں آخری زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور میں نے قسم کھالی کہ اب میں رات اور دن آپ کے پاس رہوں گا اور آپ کی باتیں سنوں گا اور چونکہ میں ہر وقت وہیں بیٹھا رہتا تھا، اسلئے بعض دفعہ سات سات وقت کا فاقہ ہو جاتا تھا اور میں بیہوش ہو کر گر جاتا تھا۔لوگ سمجھتے تھے کہ مجھے مرگی ہو گئی ہے اور عربوں میں رواج تھا کہ جب کسی کو مرگی کا دورہ ہوتا تو اس کے سر پر جوتیاں مارا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ مرگی کا علاج ہے۔انہوں نے کہا ادھر میں فاقہ سے مر رہا ہوتا تھا اور اُدھر میرے سر پر جوتیاں پڑنے لگ جاتیں حالانکہ اُس وقت مجھے اندر سے ہوش ہوتا تھا مگر میری زبان میں اتنی طاقت نہیں ہوتی تھی کہ میں انہیں منع کر سکوں پس یا تو میرا وہ حال تھا اور یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کا یہ نتیجہ ہے کہ اب میں اُس رومال میں جسے بادشاہ اپنی شان دکھانے کے لئے تخت پر بیٹھتے وقت اپنے ہاتھ میں رکھا کرتا تھا تھوک رہا ہوں۔تو یہ چیزیں ملتی ہیں اور اسلام بھی ہمیں وہ چیزیں دیتا ہے جو دنیا کے پیچھے چلنے سے حاصل ہوتی ہیں مگر اسلام زیادہ شاندار طور پر یہ چیزیں دیتا ہے اور وہ لوگ ذلّت کے طور پر ان چیزوں کو حاصل کرتے ہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ تم اپنے باپ کے پاس جاؤ مگر اس لئے کہ تمہیں حلوہ کھانے کو مل جائے ، ماں کے پاس جاؤ مگر اس لئے کہ تمہیں پر اٹھے کھانے کو ملیں۔جب ہم اس نیت اور اس ارادہ سے جاتے ہیں تو گو یہ چیزیں ہمیں مل جاتی ہیں مگر ہم ذلیل اور کمینے بھی قرار پاتے ہیں۔اسلام کہتا ہے تم ماں کے پاس جاؤ مگر ماں کے پیار کے لئے ، دوست کے پاس جاؤ مگر دوست کی محبت کے لئے حلوہ تمہیں پھر بھی ملے گا ، پر اٹھے تمہیں پھر بھی ملیں گے ، پلاؤ پھر بھی تمہیں ملے گا مگر تم شریف اور با اخلاق کہلاؤ گے۔یہ فرق ہے جو اسلامی تعلیم پر عمل کرنے اور دنیوی طریقوں کو اختیار کرنے میں ہے اور اسی کی طرف میرا آج کا مضمون اشارہ کرتا ہے۔اسلامی نظام حکومت کا ایک اجمالی نقشہ میرا یہ مضمون در حقیقت اسلامی طریق حکومت کی ایک تصویر ہے یا اسلام دنیا میں جو اصلاح پیدا کرنا چاہتا ہے اُس کا ایک اجمالی نقشہ اس مضمون میں کھینچا گیا ہے۔آجکل پاکستان میں اس بات پر بڑا زور دیا جاتا ہے کہ اسلامی نظام حکومت قائم ہونا چاہئے مگر عملی طور