سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 900

سیر روحانی — Page 348

۳۴۸ ہیں۔اگر آپ اپنے دوست سے اس لئے ملنے جاتے ہیں کہ وہ آپ کو پلا ؤ کھلائے گا یا مرغ آپ کے لئے ذبح کریگا تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ بڑے کمینے ہیں لیکن اگر آپ اپنی ماں سے ملنے کے لئے جائیں گے تو وہ آپ کے لئے چائے ضرور پکائے گی ، آپ کے لئے پراٹھے ضرور تیار کرے گی۔اگر آپ اپنے باپ کو ملنے جائیں گے تو وہ کچھ نہ کچھ کھانا ضرور پکائے گا۔اگر آپ اپنے دوست کو ملنے جائیں گے تو وہ آپ کی کچھ نہ کچھ تواضع ضرور کریگا۔تو دیکھو بات وہی بن جاتی ہے لیکن طریق مختلف ہو جاتا ہے۔ایک صورت میں پلاؤ بھی ملے گا اور کمینے بھی بن جاؤ گے۔لیکن اگر تم اپنے دوست کے پاس محض اس سے ملنے کے لئے جاؤ تو پلاؤ پھر بھی ملے گا مگر تم نہایت شریف الطبع اور با اخلاق انسان کہلاؤ گے۔تو اسلام وہ طریق بتاتا ہے جس پر چلنے سے دُنیوی حکومتیں اور اُس کی نعمتیں خود بخو د آ جاتی ہیں۔اسلام کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو تو یہ چیزیں تمہیں خود بخو دمل جائیں گی مگر وہ ان چیزوں کو مقصود قرار نہیں دیتا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کو وہ نعمتیں ملیں کہ دنیا حیران رہ گئی۔شہنشاہ ایران کا رومال حضرت ابوہریرہ کے قبضہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ہی دیکھ لو وہ آخری زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے صرف تین سال پہلے ایمان لائے تھے۔انہوں نے جب دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اب بڑی عمر ہو چکی ہے اور آپ کی زندگی کے دن اب بظا ہر تھوڑے رہ گئے ہیں تو انہوں نے قسم کھائی کہ اب میں آپ سے جدا نہیں ہوں گا چنانچہ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ باوجود اس کے کہ انہیں صرف تین سال ملے سب سے زیادہ حدیثیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہیں۔چونکہ یہ غریب آدمی تھے اور سارا دن مسجد میں بیٹھے رہتے تھے اس لئے بعض دفعہ سات سات وقت کا انہیں فاقہ ہو جاتا تھا اور شدت بھوک کی وجہ سے وہ بیہوش ہو کر گر پڑتے تھے۔جب اسلام کی فتوحات کا دور آیا اور قیصر و کسری کے خزانے اسلامی تصرف میں آئے تو کسری شہنشاہ ایران کا ایک خاص ریشمی رومال جو تخت پر بیٹھنے کے وقت وہ اپنے ہاتھ میں رکھا کرتا تھا مال غنیمت میں تقسیم ہو کر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ آیا۔ایک دفعہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو نزلہ کی شکایت تھی کہ بیٹھے بیٹھے انہیں کھانسی آ گئی اور انہوں نے شہنشاہ ایران کے اس رومال میں تھوک دیا اور پھر کہا بیچ بیچ