سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 900

سیر روحانی — Page 337

۳۳۷ کے لئے اپنے دین کی تفاصیل بیان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر بات کو جاننے والا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ اس مضمون کو بیان فرماتا ہے کہ خدا کا یہ نور کس مینار پر رکھا جاتا ہے فرماتا ہے فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللهُ اَن تُرْفَعَ یہ نور ان گھروں میں رکھا جائے گا جن کے متعلق خدا تعالیٰ کی نے حکم دیا ہے کہ وہ دنیا میں میناروں کی طرح بلند کئے جائیں۔وَيُذْكَرَفِيْهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَابَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلوةِ وَايْتَاءِ الزَّكَوةِ اور جن میں رات اور دن خدا کا ذکر کیا جاتا ہے اور صبح وشام اس کی تسبیح کی جاتی ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کو تجارت اور خرید وفروخت خدا کے ذکر اور نمازوں کے قیام کی ادائیگی سے غافل نہیں کرتی۔يَخَافُونَ يَوْماً تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالاَ بُصَارُ اور وہ اُس دن سے ڈرتے ہیں جس دن انسانوں کے دل دھڑ کنے لگ جائیں گے اور ان کی آنکھیں جھک جائیں گی۔لِيَجْزِ يَهُمُ اللَّهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ تا که اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کے اعلیٰ حصے کا اُن کو بدلہ دے اور اپنے فضل سے ان کے انعامات میں اور بھی زیادتی کرے۔وَاللَّهُ يَرُزِقُ مَنْ يَّشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابِ اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا کرتا ہے۔روحانی عظمت اور بلندی کے مستحق افراد کی تعیین ! ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ روحانی طور پر بعض گھروں کو اونچا کر دیتا ہے یعنی دنیا میں انہیں ایک مینار کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے مگر فرماتا ہے کہ یہ کون سے گھر ہیں یہ وہی گھر ہیں يُسَبِّحُ لَهُ فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَالَّا صَالِ - رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلوةِ وَإِيتَاءِ الزَّكُوةِ ي وہ گھر ہیں جن کے اندر صبح و شام خدا تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے اور صرف منہ سے ہی نام نہیں لیا جا تا بلکہ عملاً بھی وہ اس کے لئے ہر قسم کی قربانی کرتے ہیں وہ تجارتیں بھی کرتے ہیں وہ سو دا بھی کی بیچتے ہیں وہ روپیہ بھی کماتے ہیں لیکن باجود اس کے ان کا روپیہ انہیں خدا تعالیٰ سے غافل نہیں کر دیتا۔ان کی تجارت انہیں حقوق اللہ سے اور حقوق العباد کی ادائیگی سے روک نہیں دیتی وہ بندوں کا حق ادا کرتے ہیں ، وہ غریبوں کی بھی ہمدردی کرتے ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کو بھی نہیں بھلاتے۔جماعت احمد یہ ہمیشہ اس نکتہ کو یا د رکھے کیونکہ اسی میں اس کی فلاح ہے۔ایک قابل غور نکتہ دین کے لئے روپیہ کمانا بھی اس کا فرض ہے لیکن روپیہ کماتے وقت دین