سیر روحانی — Page 327
۳۲۷ جو عمر نے بھجوائی تھی تا کہ میں اُسے اپنے سر پر رکھوں چنانچہ اُس نے ٹوپی پہنی اور اُس کا درد جاتا رہا۔چونکہ اُس کو ہر آٹھویں دسویں دن سر درد ہو جایا کرتا تھا، اس لئے پھر تو اس کا یہی معمول ہو گیا کہ وہ دربار میں بیٹھتا تو وہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی میلی کچیلی ٹوپی اس نے اپنے کی سر پر رکھی ہوئی ہوتی۔ایک صحابی کی قیصر کے مظالم سے نجات یہ نشان جو خدا تعالیٰ نے اسے دکھایا اس میں ایک اور بات بھی مخفی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی قیصر کے پاس قید تھے اور اُس نے حکم دے دیا تھا کہ انہیں سور کا گوشت کھلایا جائے وہ فاقے برداشت کرتے تھے مگر سور کے قریب نہیں جاتے تھے اور گوا سلام نے یہ کہا ہے کہ اضطرار کی حالت میں سور کا گوشت کھا لینا جائز ہے مگر وہ کہتے تھے کہ میں صحابی ہوں میں ایسا نہیں کر سکتا۔جب کئی کئی دن کے فاقوں کے بعد وہ مرنے لگتے تو قیصر انہیں روٹی کی دے دیتا جب پھر انہیں کچھ طاقت آ جاتی تو وہ پھر کہتا کہ انہیں سو ر کھلایا جائے اس طرح نہ وہ انہیں مرنے دیتا نہ جینے۔کسی نے اُسے کہا کہ تجھے یہ سر درد اس لئے ہے کہ تو نے اس مسلمان کو قید رکھا ہوا ہے اور اب اس کا علاج یہی ہے کہ تم عمر سے اپنے لئے دُعا کر اؤ اور ان سے کوئی تبرک منگوا ؤ۔جب حضرت عمر رضی اللہ نے اُسے ٹوپی بھیجی اور اُس کے درد میں افاقہ ہو گیا تو وہ اس سے اتنا متاثر ہو ا کہ اُس نے اِس صحابی کو بھی چھوڑ دیا۔اب دیکھو کہاں قیصر ایک صحابی کو تکلیف دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی سزا کے طور اس کے سر میں درد پیدا کر دیتا ہے۔کوئی اور شخص اسے مشورہ دیتا ہے کہ عمرؓ سے تبرک منگواؤ اور ان سے دُعا کراؤ وہ تبرک بھیجتے ہیں اور قیصر کا درد جاتا رہتا ہے۔اس طرح اللہ تعالیٰ اس صحابی کی نجات کے بھی سامان پیدا کر دیتا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اس پر ظاہر کر دیتا ہے۔علوم غیبیہ کا دروازہ کھل گیا (۳) مینار بنانے کی تیسری غرض اجرام فلکی سے علوم غیبیہ کا معلوم کرنا ہوتی ہے لیکن یہ غرض بھی ان میناروں سے کبھی پوری نہیں ہوئی۔لوگ مینار بناتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ارواحِ سماویہ سے غیبی علوم ان کو حاصل ہو جائیں مگر کسی مینار سے بھی ان کو غیب کا علم حاصل نہیں ہوتا ، لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنے علوم غیبیہ عطا ہوئے کہ جن کی مثال دنیا کے کسی نبی میں نظر نہیں آ سکتی بلکہ آپ تو الگ رہے آپ کے اتباع میں بھی ہمیشہ ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے