سیر روحانی — Page 314
۳۱۴ دل میں کوئی خواہش پیدا نہ ہو جب تک کہ تمہیں یہ معلوم نہ ہو کہ خدا تعالیٰ کی بھی وہی خواہش ہے۔گویا تمہارا ارادہ خدا تعالیٰ کے ارادہ سے اور تمہاری خواہش خدا تعالیٰ کی خواہش سے مل جائے اور کسی امر میں بھی تمہاری نفسانیت کا کوئی دخل نہ رہے۔چنانچہ دیکھ لو ہجرت کے موقع پر صحابہ نے بڑا زور لگایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی مکہ سے مدینہ تشریف لے چلیں مگر باوجود اُس کے کہ اس وقت سب سے زیادہ خطرناک مقام مکہ تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابھی ہجرت کا حکم نہیں ہوا گویا جو کچھ خدا تعالیٰ کی مشیت تھی اُس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے چلے گئے۔پس جو کچھ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْأَدْنى میں مضمون بیان کیا گیا ہے وہی مضمون وَمَا تَشَاءُ وُنَ إِلَّا اَنْ يَّشَاءَ اللهُ میں بیان کیا گیا ہے خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دے دیا کہ تم اپنی کمان پھینک دو اور میری کمان لے لومیں بھی اپنی کمان پھینکتا ہوں اور تمہاری کمان اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہوں۔محمد رسول اللہ کے دشمن آسمانی تیروں کی زد میں ایک اور جگہ بھی قرآن کریم میں یہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَارَمَيْتَ اِذْرَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَمَى ٢٨ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جب تو نے اپنی کمان سے تیر چھوڑا تو ہم سچ کہتے ہیں کہ وہ تیر تیری کمان نے نہیں چھوڑا بلکہ وہ تیر ہماری کمان نے چھوڑا مَا رَمَيْتَ تُو نے تیر نہیں چلا یا اذُ رَمَيْتَ جب تُو نے تیر چلایا وَلَكِنَّ اللهَ رَمی بلکہ وہ تیر خدا تعالیٰ نے چلایا گویا اگر ہم غور کریں تو نقشہ یوں بن گیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد خدا تعالیٰ نے اپنی کمان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپر د کر دی اور فرمایا اب جو بھی تیرے سامنے آئے گا اس پر زمینی تیر ہی نہیں چلے گا بلکہ آسمانی تیر بھی چلے گا۔عملی طور پر بھی دیکھ لو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ اور بے لوث حیات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تیس سالہ زندگی میں آپ کے ایک دو نہیں بلکہ لاکھوں دشمن تھے حکومتیں آپ کے خلاف تھیں، عرب کے آزاد قبائل آپ سے برسر پیکار تھے ، قیصر و کسریٰ کی حکومتیں بھی آپ سے نبرد آزمای تھیں یہودی الگ فتنہ برپا کئے ہوئے تھے اور منافقین اسلام کو مٹانے کے لئے علیحدہ سازش میں مصروف تھے مگر اتنی شدید مخالفتوں کے باوجود ایک مثال بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی