سیر روحانی — Page 305
۳۰۵ وقت آسمان سے ایک ایسا آدمی بھیجا جائے گا جو اس فتنہ کو دُور کر دیگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ :- موت کے بعد میں پھر تجھے حیات بخشوں گا ، ۲۴ یعنی جب کبھی آپ کے مشن کو کوئی نقصان پہنچنے والا ہو گا خدا تعالیٰ اُس کی زندگی کے پھر سامان پیدا کر دے گا۔آئندہ زمانوں میں پیشگوئیوں کے پورا ہونے کا فائدہ بعض لوگ یہ کہا کرتے ہیں کہ اگر یہ پیشگوئی اتنے عرصے کے بعد پوری بھی ہوئی تو اس سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ملا؟ میں ایسے نادانوں سے کہتا ہوں کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مکہ کے لئے تھے؟ کیا اس زمانہ کے لوگ آپ کی امت میں شامل نہیں تھے؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک زندہ نبی ہیں اور قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے ہیں اس لئے ضروری تھا کہ آپ کی پیشگوئیاں ہر زمانہ میں پوری ہوتیں تا کہ ہر زمانہ کے لوگ اپنے ایمانوں کو تازہ کر سکتے اور انہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر ایک زندہ اور تازہ ایمان میسر آتا۔پس یہ کہنا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پیشگوئی کے پورا ہونے سے کیا ملا۔محض نادانی ہے اس پیشگوئی نے پورا ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو روشن کر دیا اب اگر کوئی یہودی اور عیسائی آپ پر اعتراض کرتا ہے تو ہم ان پیشگوئیوں کو اس کے سامنے رکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو! یہ وہ پیشگوئیاں تھیں جن کے مطابق اس زمانہ میں ایک شخص مبعوث ہوا اور اُس نے کہا کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی خدمت اور اس کی اشاعت کے لئے مبعوث ہوا ہوں اب اگر کوئی اسلام کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے تو وہ میرے سامنے آئے۔کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک شخص کا عین وقت پر اسلام کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو منجدھار سے نکالنے کے لئے آجانا اس بات کا ثبوت نہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے برگزیدہ رسول تھے، یقینا کوئی جھوٹا آدمی اس قسم کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔سابق الہامی کتب کی پیشگوئیاں محمد رسول اللہ قرآن کریم نے بھی اس دلیل کو لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ثبوت ہیں تو موسیٰ کے وقت میں تھا کہ تو نے