سیر روحانی — Page 146
۱۴۶ متعلق تفصیلی بحث میری کتاب "احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں موجود ہے۔میں اس جگہ مختصراً چند باتیں بیان کر دیتا ہوں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاِنْ طَائِفَتْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأخْرى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ٥٠ اگر دو مومن حکومتیں آپس میں لڑ پڑیں تو باقی تمام حکومتوں کو چاہئے کہ سب مل کر ان سے کہیں کہ آپس میں صلح کر لو۔اگر ان میں سے کوئی صلح کی تجویز کو مان کر باغی ہو جائے یا صلح کی تجویز کو قبول ہی نہ کرے اور لڑائی پر آمادہ رہے تو وہ حکومت جس نے بغاوت سے کام لیا ہو اس کے ساتھ سب مل کر لڑو اور مظلوم کو اکیلا نہ رہنے دو حَتَّى تَفِيءَ إِلَى اَمْرِ اللهِ یہاں تک کہ ابتداء کرنے والی حکومت یا قوم خدا تعالیٰ کے فیصلے کو مان لے فَاِنْ فَآءَ ت اگر وہ ظلم سے باز آ جائے کی اور اقرار کر لے کہ اس سے غلطی ہوئی تو پھر اس سے انتقام نہ لو اور اپنے آپ کو فریق مخالف قرار دے کر اس سے بیجا مطالبات نہ کرو، بلکہ ابتدائی مخاصمین کے درمیان صلح کرا دو۔وَأَقْسِطُوا اور انصاف سے کام لو ایسا نہ ہو کہ تم غصہ سے کسی کے خلاف کوئی ایسا فیصلہ کر دو جو عدل و انصاف کے منافی ہو اور کہو کہ چونکہ اس نے پہلے ہماری بات کو نہیں مانا تھا اس لئے اب اس پر سختی کرنی چاہئے۔تمہیں جنبہ داری اور کینے کے تمام پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے انصاف سے کام لینا چاہئے اور سمجھ لینا چاہئے کہ اِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ الله تعالى انصاف کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔میں اس وقت تفصیلاً اس مسئلہ کو بیان نہیں کر سکتا۔تین چار سال ہوئے جب ایسے سینیا پر اٹلی نے حملہ کیا تھا تو اُس وقت جلسہ سالانہ کے موقع پر کی میں نے اس مضمون پر روشنی ڈالی تھی اور بتایا تھا کہ امن کے قیام کے لئے ایسی ہی لیگ آف نیشنز کی کام دے سکتی ہے جس کی بنیاد اسلامی اصول پر ہو۔اگر اسلامی اصول پر لیگ آف نیشنز (LEAGUE OF NATIONS) کی بنیاد نہ رکھی جائے تو وہ کبھی امن قائم نہیں کر سکتی۔اس وقت یہ دستور ہے کہ جب کوئی قوم مغلوب ہو جاتی ہے تو اسے ہر ممکن طریق سے ذلیل اور رسوا کرنیکی کوشش کی جاتی ہے جیسے گزشتہ جنگ کے اختتام پر جرمنی کو ” معاہدہ وارسائی اے کے ذریعہ کچلنے کی پوری کوشش کی گئی اور انصاف کی حدود کو نظر انداز کر دیا گیا ، حالانکہ قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ جب کوئی قوم ہتھیار ڈال دے تو اس کے بعد جو بھی معاہدہ کیا جائے اس کی بنیاد