سیر روحانی — Page 145
۱۴۵ ذلیل اور حقیر سمجھو گے تو تم اکیلے پھرتے رہو گے اور لوگ تمہیں غیر جنس خیال کرنے لگ جائیں گے اور اس وجہ سے تمہیں امن میسر نہیں آ سکے گا۔بھلا کبھی گھوڑوں اور گدھوں میں رہ کر بھی انسان کو امن حاصل ہو سکتا ہے۔امن تو اُس وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان اپنی جنس کے ساتھ رہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میاں دیکھو تم نے کسی اور جگہ نہیں جانا بلکہ تمہارے ان غریب بھائیوں نے ہی رات دن تمہارے کام آنا ہے اگر تم اپنے آپ کو کوئی غیر جنس سمجھو گے تو دُنیا میں اس طرح رہو گے جس طرح چڑیا گھر میں انسان رہتا ہے۔پھر فرماتا ہے وَلَنُ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولاً اگر تم نے یہ طریق جاری رکھا تو یاد رکھو تم اس صورت میں کبھی بھی قوم کے سرداروں میں شامل نہیں ہو سکو گے۔اس لئے کہ جب تم قوم کو ذلیل سمجھو گے تو قوم تمہیں اپنا سردار کس طرح بنائے گی وہ تو تمہاری دشمن ہوگی اور تمہیں اپنی قوم کی نگاہوں میں عزت نہیں بلکہ ذلت حاصل ہوگی۔قومی اخلاق کو بگاڑنے کی ممانعت پھر قومی ظلموں میں سے ایک اخلاقی ظلم قوم کے اخلاق کو بگاڑنا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو اس سے بھی روکتا اور فرماتا ہے لَا يُحِبُّ اللهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ " کہ اللہ تعالیٰ یہ پسند نہیں فرماتا کہ کوئی بُری بات اونچی آواز سے کہی جائے۔لوگ اس کے یہ معنی کرتے ہیں کہ اگر کوئی مظلوم ہو تو اسے بیشک اجازت ہے کہ وہ بر سر عام جو جی میں آئے کہتا پھرے لیکن کسی اور کو اس کی اجازت نہیں۔مگر میرے نزدیک اس آیت کا اصل مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی مظلوم ہو تب بھی یہ پسندیدہ بات نہیں کہ وہ لوگوں میں بُرائیاں بیان کرتا پھرے۔گویا اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس طریق سے روکتا اور فرماتا ہے کہ تو جو اپنے ظلم کے خلاف شور مچاتا ہے تجھے یہ تو سمجھنا چاہئے کہ تو اپنے ظلم کے متعلق تو شور مچا رہا ہے اور قوم کے اخلاق کو تباہ کر رہا ہے جیسے اگر کوئی ماں بہن کی گندی گالیاں دینا شروع کر دے اور پاس سے عورتیں گزر رہی ہوں تو ہر شریف آدمی اسے روکتا اور کہتا ہے کہ تجھے شرم نہیں آتی کہ تو لوگوں کے اخلاق خراب کر رہا ہے اسی طرح خدا فرماتا ہے تو شور کس بات پر مچا رہا ہے؟ کیا اس بات پر کہ تجھ پر ظلم ہوا ہے مگر تجھے اتنی سمجھ نہیں کہ تو اپنے ظلم پر شور مچا رہا ہے اور ساری قوم پر ظلم کر رہا ہے۔پھر ایک اور ظلم حکومتوں پر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے بين الاقوامی مناقشات کا سدِ باب اس بارہ میں بھی کئی ہدایات دی ہیں اس کے کی