سیر روحانی — Page 142
۱۴۲ ہوئے اس کے قتل کئے جانے کا حکم دیدیا۔جب اسے قتل کرنے کے لئے لوگ لے گئے تو اُس نے کہا کہ میرے گھر میں کئی قیموں کی امانتیں پڑی ہوئی ہیں، مجھے اجازت دی جائے کہ میں میں جا کر وہ امانتیں اُن کو واپس دے آؤں ، پھر میں اس جگہ اتنے دنوں میں حاضر ہو جاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ اپنا کوئی ضامن لاؤ۔اُس نے اِدھر اُدھر دیکھا آخر اس کی نظر ابوذر صحابی پر جا پڑی اور اس نے کہا کہ یہ میرے ضامن ہیں۔ابوذر سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کی اس کی ضمانت دینے کے لئے تیار ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں۔خیر انہوں نے ضمانت دی اور وہ چلا گیا۔جب عین وہ دن آیا جو اُس کی حاضری کے لئے مقرر تھا تو صحابہؓ ادھر اُدھر گھبراہٹ سے پھرنے لگے کیونکہ وہ شخص ابھی تک آیا نہیں تھا جب بہت دیر ہوگئی اور وہ نہ آیا تو صحابہ نے حضرت ابوذر سے پوچھا کہ کچھ آپ کو پتہ بھی ہے وہ کون شخص تھا ؟ انہوں نے کہا مجھے تو علم نہیں۔صحابہ کہنے لگے اُس کا جرم قتل تھا اور آپ نے بغیر کسی واقفیت کے اس کی ضمانت دے دی، یہ آپ نے کیا کیا ؟ اگر وہ نہ آیا تو آپ کی جان جائے گی۔انہوں نے کہا، بیشک میں اسے جانتا نہیں تھا مگر جب ایک مسلمان نے ضمانت کے لئے میرا نام لیا تو میں کس طرح انکار کر سکتا تھا اور کس طرح یہ بدظنی کر سکتا تھا کہ ممکن ہے وہ حاضر ہی نہ ہو۔اب دیکھو اُن میں حُسنِ ظنی کا کس قدر مادہ پایا جاتا تھا کہ ایک شخص جس کی انہیں کچھ بھی واقفیت نہیں اُس کی اُنہوں نے ضمانت دیدی محض اس وجہ سے کہ وہ بدظنی کرنا نہیں چاہتے تھے۔جب وقت بالکل ختم : ہونے لگا تو صحابہ کو دُور سے گرد اڑتی دکھائی دی اور انہوں نے دیکھا کہ ایک سوار بڑی تیزی سے اپنے گھوڑے کو دوڑاتا ہوا آرہا ہے۔سب کی نظریں اُس سوار کی طرف لگ گئیں جب وہ قریب پہنچا تو وہ وہی شخص تھا جس کی حضرت ابوذر نے ضمانت دی ہوئی تھی۔وہ اپنے گھوڑے سے اُترا اور چونکہ بڑی تیزی سے اپنے گھوڑے کو دوڑاتا چلا آیا تھا اس لئے اس کے اُترتے ہی گھوڑا گر کر مر گیا۔اس نے پاس آکر کہا کہ مجھے معاف کرنا ، بیتائی کی امانتیں تقسیم کرتے ہوئے مجھے کچھ دیر ہو گئی جس کی وجہ سے میں جلدی نہ آسکا اور اب میں گھوڑے کو دوڑاتا ہی آ رہا تھا تا کہ وقت کے اندر پہنچ جاؤں سو خدا کا شکر ہے کہ میں پہنچ گیا ، اب آپ اپنا کام کریں۔اس کی اس وفاداری کا اس قدر اثر ہوا کہ جن لوگوں کا جرم تھا انہوں نے فوراً قاضی سے کہدیا کہ ہم نے اپنا جرم اس شخص کو معاف کر دیا۔۴۳ یہ وہ نیک طن لوگ تھے جو دوسروں پر بدظنی کرنا جانتے ہی نہیں تھے اور پھر خدا بھی ان کی