سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 900

سیر روحانی — Page 141

۱۴۱ بدظنی کی وجہ سے فساد ہوتا ہے یا ظلم کی وجہ سے فساد ہوتا ہے یا غصے کو غالب آنے دینے سے فساد ہوتا ہے یا لالچ کی وجہ سے فساد ہوتا ہے۔اس کے مقابلہ میں امن بھی چار چیزوں سے قائم ہوتا ہے۔ا۔امن قائم ہوتا ہے خیر خواہی سے۔۲۔امن قائم ہوتا ہے مغفرت سے۔مثلاً اگر کوئی گالی دے اور دوسرا معاف کر دے تو لڑائی کی کس طرح ہو سکتی ہے، کہتے ہیں تالی دونوں ہاتھ سے بجتی ہے جب فریقین میں سے ایک مغفرت سے کام لے اور عفو و درگزر کا سلوک کرے تو لڑائی بڑھ ہی نہیں سکتی۔۔اسی طرح احسان سے امن قائم ہوتا ہے۔۴۔پھر امن دین کو دُنیا پر مقدم رکھ کر بھی ہوتا ہے کیونکہ جب کوئی انسان اُخروی حیات پر ایمان رکھتا ہو اور اُس کو دنیا کی زندگی پر ہر لحاظ سے ترجیح دیتا ہو تو وہ امن کے قیام کی خاطر ہر قسم کی قربانی کرسکتا ہے۔اب یہ آٹھوں باتیں جو فی اور مثبت سے تعلق رکھتی ہیں ہمیں دیکھنا چاہئے کہ صحابہ میں پائی جاتی تھیں یا نہیں؟ اسلام میں بدظنی کی ممانعت اول بدظنی ہے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا ۴۲ كَثِيراً مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوا " کہ اے مومنو! تم اکثر گمانوں سے بچا کرو کیونکہ بعض ظن ایسے ہیں جن سے گناہ پیدا ہوتا ہے۔وَلَا تَجَسَّسُوا اور تم دوسروں کے عیوب تلاش نہ کیا کرو۔اب اگر کوئی شخص دوسرے پر حسن ظنی کرے تو وہ اس کے عیب کو تلاش ہی نہیں کر سکتا۔عیب اُسی وقت انسان تلاش کرتا ہے جب دل میں بدظنی کا مادہ موجود ہو۔اب ہم صحابہ کے طریق عمل کو دیکھتے ہیں کہ اُن میں حسنِ ظنی کسی حد تک پائی جاتی تھی۔تاریخ اسلام میں جب صحابہ کے واقعات دیکھے جاتے ہیں تو انسان حیران رہ جاتا ہے کہ اُن میں کس قدر خوبیاں پائی جاتی تھیں۔ان میں نیک فنی تھی تو کمال درجہ کی اور دیانت وامانت تھی تو اُس حد تک کہ اس کی اور کہیں مثال ہی نہیں ملتی۔ان کی نیک ظنی کی مثال یہ ہے کہ لکھا ہے حضرت عمرؓ کے عہد میں ایک شخص پر قتل کا مقدمہ چلا اور قضاء نے اس کے خلاف فیصلہ دیتے