سیلابِ رحمت — Page 61
سیلاب رحمت لکھ دیا بلکہ تفصیل سے اس کے کام کی نوعیت پر روشنی ڈالی۔“ نویں نمبر پر بھی انہی کی مرتب کردہ کتاب قواریر۔قوامون بتھی۔موصوفہ شعبہ اصلاح معاشرہ کی سیکرٹری تھیں بڑی محنت سے میاں بیوی کے حقوق وفرائض کے بارے میں قرآن پاک اور احادیث مبارکہ سے مواد جمع کیا۔بے حد مفید یہ کتاب 1989 ء میں منظر عام پر آئی۔اس کتاب کے ذکر سے پروف ریڈنگ کی کانٹوں بھری راہیں ذہن میں آگئیں۔کتاب کا نام قواریر۔قوامون رکھا تھا اور بہت خوش تھی کہ اللہ پاک نے کیا پیارا نام سجھایا ہے۔کتاب کی پروف ریڈنگ احتیاط سے کی تھی، ٹائٹل بھی چیک کیا تھا مگر چھپ کر آئی تو قواریر کی واؤ پر شد اور زبر لگی ہوئی تھی۔میں سر پیٹ کر رہ گئی۔لگتا ہے آخری وقت میں کسی کو خیال آیا ہو گا کہ شاید قوامون پر شد لکھنا مجھے یا د رہا اور قواریر پر بھول گئی۔یہ کمی از راہ شفقت پوری کر دی گئی۔میں نے ایک ہزار کتابوں پر سے شد اور زبرمٹوائی۔اسی طرح انگریزی کی ایک کتاب میں Ismail Son of Ibrahim میں ابراہیم کے سپیلنگ غلط تھے۔کاٹ کر لکھ دیا Sp۔۔۔عام سی بات ہے کہ سپیلنگ ٹھیک کر دیجئے۔ٹھیک ہو کر آیا Ismail Son of SP۔اس طرح کی بے شمار غلطیاں کبھی رلاتیں کبھی ہنسا تھیں۔پہلے دوسری کتابوں میں پروف ریڈنگ کی غلطیاں دیکھ کر انہیں پروف پڑھنے والوں کی کو تا ہی سمجھتی تھی لیکن جب خود اس سے گزری تو اندازہ ہوا کہ چوک ہو جاتی ہے۔کتنی بھی محنت کر لیں کہیں نہ کہیں نظر بچا کے غلطی رہ جاتی ہے۔یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔اصل مضمون تو حضور کی شفقتوں کے گرد گھومتا ہے۔حضور انور نے یہ ابتدائی چھوٹی چھوٹی کتب ملاحظہ فرما کر حوصلہ افزائی فرمائی: جن مشکلات میں اور جس تھوڑے عرصے میں آپ نے بڑا دفتر 61