سیلابِ رحمت — Page 297
ربوہ سے والہانہ پیار ہجرت اللہ تعالیٰ کی خاطر ہوتی ہے۔دین ودنیا میں ترقیات اور اجر وثواب کا باعث ہوتی ہے۔مگر اپنے ساتھ جو کسک اور دُکھن لے کے آتی ہے اس کے دائرے بہت وسیع اور طویل ہوتے ہیں۔دریائے چناب کے کنارے بسنے والی پریم نگری ربوہ مٹی دھول اور موسم کی شدتوں کے باوجود اپنے مکینوں کے جذبہ ایمانی سے کوئی آسمانی بستی لگتی ہے۔حضور جب ربوہ آئے تو قریباً 20 سال کے ہوں گے۔جوانی کا بھر پور زمانہ اس روح پرور ایمان آفریں ماحول میں گزارا ، یہیں شادی ہوئی اولاد کی نعمت نصیب ہوئی، ردائے خلافت پہنائی گئی اور اچانک ایک دن یہ بستی ، بہشتی مقبرے اور مقدس مزاروں کی یہ بستی ، چھٹ گئی۔بھرے گھر سے اٹھے۔مڑکر بھی نہ دیکھا، دروازے پر تالے پڑے رہ گئے۔ربوہ کے درویشوں سے پھر ملاقات نہ ہوسکی۔ربوہ اور اہل ربوہ کے ذکر پر آپ کا گلا رندھ جاتا آواز بھرا جاتی۔کبھی کبھی امید کی کرن جاگتی تو ربوہ آنے کی خواہش مچل کر لبوں تک آجاتی۔ربوہ کے رمضان المبارک کا نقشہ بڑے پیارے الفاظ میں بناتے ہیں : آج کی رات ربوہ کی زمین ذکر الہی سے اس طرح بھر گئی ہے گویا کہ خدا خود یہیں اتر آیا ہے۔لوگ توطعن سے اسے جنت کہتے تھے جنت ہی نہیں یہ تو خلد بریں ہے۔یہاں کے خاک نشیں اپنی مرضی سے دل کھول کے خدا کے حضور گریہ وزاری کرتے ہیں۔کوئی انہیں کا فرقرار دینے والا ادھر آ نکلے تو ربوہ کے ہر مکین کی جبین پر سجدوں کے نشان اسے اپنے عقیدے کا مفہوم سمجھا دیں۔ہمیں اس کی پرواہ ہی نہیں کہ ” کا فر ملحد 295