سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 292 of 418

سیلابِ رحمت — Page 292

سیلاب رحمت دہکا تا رہا۔یہ دل کوئلہ کوٹلہ کیسے ہوا کچھ ذات کی محرومیاں کچھ بے قرار تمنائیں، کچھ اپنوں اور غیروں کے دیے ہوئے درد، کچھ بار امانت کو سرخروئی سے اٹھانے کا خوف الہی۔جب سے خدا نے ان عاجز کندھوں پر بار امانت ڈالا راہ میں دیکھو کتنے کٹھن اور کتنے مہیب مراحل آئے اپنی ذات کے دکھ تو پھر بھی کوئی سہارلے، یہاں تو جماعت کا ہر فردا اپنی پریشانیوں کا سارا بوجھ خلافت کی جھولی میں ڈال کر دعا کا طلبگار ہوتا۔یہ غم آپ کے دل میں اترتے آپ کی راتیں سب کے دکھوں میں دعائیں بن جاتیں۔آنکھیں لہو برساتیں۔نالے عرش کو ہلا دیتے اور رحمت کے وعدے لے کر لوٹتے۔غموں کی میزبانی نے آپ کو یہ بتایا کہ سکتی روحوں کا کوئی وطن مذہب رنگ نسل اور جنس نہیں ہوتی۔سب انسان ہوتے ہیں۔آپ کی کوشش تھی کہ ہر انسان کو رسول اللہ کے دامن سے وابستہ کر دیں جن کو اللہ تعالیٰ نے رحمتہ للعالمین بنایا ہے۔اس کے دامن سے ہے وابستہ کل عالم کی نجات بے سہاروں کا ہے اب ملجا و ماوی وہی ایک والدہ ماجدہ سے محبت مے خانہ غم میں احساس درد و الم کا اولیس جام آپ کو والدہ مرحومہ کی رحلت پر پینا پڑا۔نو عمر بچے کیلئے یہ اتنا بڑا حادثہ تھا جیسے پہاڑ آ گرے ہوں۔میٹرک کا امتحان دیتے ہوئے بچے کو ایک کڑے امتحان سے گزرنا پڑا۔آپ کے اور پیاری ماں کے درمیان موت کا سنگین پردہ حائل ہو گیا۔کمرے میں ایک تصویر ہے، اسی سے مخاطب ہیں: تیرے لئے ہے آنکھ کوئی اشکبار دیکھ نظریں اٹھا خدا کے لیے ایک بار دیکھ 290