سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 293 of 418

سیلابِ رحمت — Page 293

سیلاب رحمت وعدہ ضبط الم نبھانا مشکل ہے بند شکیب ٹوٹ ٹوٹ جاتے ہیں۔کتنا عجیب تجربہ ہے آنسو اپنے ہیں مگر اپنوں پر بھی اختیار نہیں۔ماں کی تصویر سینے سے لگائی جاسکتی ہے مگر وہ آنسو نہیں پونچھ سکتی۔ہم نے بارہا دیکھا آپ اُمی کے ذکر پر آبدیدہ ہو جاتے۔اگر کوئی اپنی امی کی بیماری یا وفات کا ذکر کرتا تو آپ کا درد جاگ اُٹھتا۔اپنی زندگی کی شام گہری ہو چکی تھی مگر والدہ مرحومہ سے محبت اور وفا کا خراج ” مریم شادی فنڈ کی صورت میں دے رہے تھے۔اب 1944ء کی ایک آرزو پوری ہو چکی ہے۔گو جدائی ہے کٹھن دور بہت ہے منزل پر مرا آقا بلالے گا مجھے بھی اے ماں اور پھر تم سے میں مل جاؤں گا جلدی یا بدیر اس جگہ مل کے جدا پھر نہیں ہوتے ہیں جہاں کتنا اچھا لگا ہو گا جب عالم بالا میں استقبال کیلئے ہاتھ پھیلائے کھڑے ہونے والوں میں ماں کو دیکھا ہوگا۔اب کبھی مل کر جدانہیں ہوں گے۔قادیان سے محبت ماں کے بعد مادر وطن سے جدائی کا صد ساٹھانا پڑا۔اپنے والد حضرت طلیقہ مسیح الثانی کی تڑپ بھی دیکھ رہے تھے قادیان کی مقدس بستی جہاں پیدا ہوئے گلیوں میں کھیلے کو دے۔یکدم چھٹ گئی۔اب ہاتھ دعا کیلئے اٹھتے تو زمین ، مکان ، دولتِ جہان کیلئے نہیں قادیان کے لیے دُعا ہوتی۔پر احمدی وہ ہیں کہ جن کے جب دعا کو ہاتھ اٹھیں تڑپ تڑپ کے یوں کہیں کہ ہم کو قادیاں ملے 291