سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 23 of 418

سیلابِ رحمت — Page 23

سیلاب (رحمت) خطوط کو ایک نظر دیکھا تو اس کو کس نظر سے دیکھا۔یہ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔اپنی اسی کتاب میں وہ بیان کرتی ہیں: حضور کی ڈاک کا نظام بھی روئے زمین پر منفرد ہے۔پچھلے زمانے کے منصف مزاج بادشاہوں کے متعلق پڑھتے تھے کہ راتوں کو بھیس بدل کرگلیوں میں گھوم پھر کر عوام کے مسائل بچشم خود دیکھا کرتے تھے۔پوری دنیا میں پھیلی جماعتوں کے منصف امام نے خطوں کے ذریعہ ہر گلی محلے میں بسنے والوں سے رابطہ رکھا ہوا ہے۔خط میں جس طرح دل کھول کر رکھ دیا جاتا ہے زبانی بھی ممکن نہیں۔مجھے علم ہے جہاں کوئی پریشانی کوئی جھگڑا کوئی دلآزاری ، بیماری ، دکھ کا واقعہ کوئی اندوہناک وفات ہو، سب اپنے دل کا سارا دکھڑا حضور پر نور کے شفیق دل میں انڈیل دیتے ہیں اور پھر پر اسرار دھندلکوں میں سموئے ہوئے غم ، فضاؤں میں سسکتے ہوئے احساس الم ان کی روح پر جذ بہ مہم بن کر چھا جاتے ہیں۔آنکھیں اشکوں کی رہگزار بن جاتی ہیں اور دل مہمان سرائے غم وحزن۔آپ کے سینے میں جواں مرگ امنگوں کے اتنے مزار ہیں کہ وہ غم وحزن کے سینکڑوں قافلوں کی زیارت گاہ بن سکتا ہے۔کسی کے دھیان کی جو گن سارے رنج و آزار کے ساتھ خود ہی پہلو میں آجاتی ہے اور رات بھر احساس کے دکھتے ہوئے تار چھیڑتی ہے۔ایک ایک تار سے غم وحزن کی صدا اٹھتی ہے۔دل ایسے جلتا ہے جیسے دور بیابانوں میں کسی راہب کا چراغ ٹمٹمارہا ہو۔درد کے قافلے ویرانوں میں لرزتی ہوئی لوکو دیکھ کر سمجھ جاتے ہیں کہ یہی ہماری منزل ہے ، دو گھڑی 23