سیلابِ رحمت — Page 24
سیلاب رحمت قلب کے غم خانے میں ستا کے تیرگی یاس کی اوٹ سے نکل کر اُمید کی کرن دیکھ کر چلے جائیں گے۔کسی اور کا کہاں حوصلہ ہوسکتا ہے کہ ان میں جھانکے۔خطوں کے ذریعے انسانیت کی اتنی بڑی خدمت ہو رہی ہے جس کا اندازہ 66 کرنا مشکل ہے۔“ (ص207-208) پ ایک واقف حال کے طور پر قارئین کے ازدیاد علم و ایمان کے لئے یہاں یہ بتانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ حضرت خلیفہ مسیح کی ڈاک کا یہ سلسلہ اللہ کے فضل سے دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔محض اردو یا انگریزی میں خطوط کے علاوہ عربی ،انڈونیشین ، رشین، فارسی، فرنچ، جرمن، سواحیلی ، ڈچ، سویڈش، نارو جنین، ڈینش سپینش، اٹالین ،ٹرکش، بنگلہ،سندھی ، پشتو کے علاوہ ہندوستان اور افریقہ کی کی لوکل زبانوں میں بھی بکثرت خطوط آنے لگے ہیں جو ان قوموں کے مخلص اور فدائی احمدیوں کی حضرت خلیفہ اُسیح سے محبت وعقیدت اور اخلاص کی نہایت ایمان افروز اور جانفزاء دلکش قلبی جذبات پر مشتمل ہوتے ہیں اور اس طرح روزانہ حضور کی خدمت میں پیش ہونے والی ڈاک کی تعداد ایک ہزار خطوط سے تجاوز کر جاتی ہے اور بدھ، جمعرات کے دن جب مختلف خطوط کے خلاصے تیار ہو کر آتے ہیں تو یہ تعداد آٹھ نو ہزار تک جا پہنچتی ہے لیکن جس خندہ پیشانی اور وفور محبت اور دعاؤں کی کیفیت میں ڈوب کر ہمارے پیارے امام ان کا مطالعہ کرتے ہیں اس کا لفظی اظہار میرے لئے ناممکن ہے۔خط لکھنے والے یہ سارے اپنے امام کی محفل دل کے ایسے خاص مہمان بنتے ہیں کہ جن پریمیوں کیلئے قلب و نظر کا سکون نثار، حضرت خلیفہ امسیح الرابع " کا یہ شعر اس کی سچی عکاسی اور غمازی کرتا ہے: ان کو شکوہ ہے کہ ہجر میں کیوں تڑپایا ساری رات جن کی خاطر رات لٹادی، چین نہ پایا ساری رات 24