سیلابِ رحمت — Page 206
سیلاب رحمت گر نہیں عرش معلی سے یہ ٹکراتی تو پھر سب جہاں میں گونجتی ہے کیوں صدائے قادیاں ہم کراچی سے پروگرام تیار کر کے بھیجتے تھے۔اب ان سب سے مل رہی تھی جو آگے ان پروگراموں کو چلاتے تھے۔مکرمہ رقیہ گلزار صاحبہ اور مکرمہ مدثر عباسی صاحبہ نے ہر کام سمجھایا بلکہ اپنی طبعی دلچسپی کی وجہ سے کچھ دن ان کے دفتر میں کام بھی کیا۔ایک دن ایم ٹی اے کے آفس میں کچھ دیر کام کر کے نماز ظہر کے لئے نکلی ہی تھی کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ (لقامع العرب کے بعد واپس تشریف لے جاتے ہوئے ) خاکسار پر پڑی۔فرمایا: امہ الباری آپ یہاں ہیں۔کلاسز میں آیا کریں براہ راست سننے سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔" اس طرح ترجمۃ القرآن کلاسز کی اجازت بھی مل گئی۔جس سے میں نے خوب فائدہ اُٹھایا۔یہ زندگی کے یادگار دن تھے۔الحمد للہ ثم الحمد للہ۔صبور کے گھر سے مسجد پیدل جاسکتے ہیں۔ترجمۃ القرآن کلاس کے لیے وقت سے پہلے پہنچ جاتی۔وہ کمرہ دیکھ رہی تھی جس میں عرفان کی بارش ہوتی تھی۔شاگردوں سے تعارف ہوا۔پھر حضور انور تشریف لے آئے مخصوص تلاوت و ترجمہ کا سلسلہ شروع ہوا۔سب معمول کے مطابق کلاس سے فیض اٹھا رہے تھے مگر میری اُڑان آسمان پر تھی۔سوچ رہی تھی پورے کرہ ارض پر اس وقت اللہ تعالیٰ کو محبوب ترین یہی گوشہ ہوگا۔فرشتے اپنے پر پھیلائے نور کی بارش کر رہے ہوں گے۔اک چشمہ فیض تھا اور تشنہ لب دیوا نے۔۔۔اس لمحے یہ دعا بھی کی کہ کاش احباب جماعت اس کلاس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ 204