سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 34 of 418

سیلابِ رحمت — Page 34

سیلاب رحمت تو جہات کریمانہ اور تلطفات رحیمانہ دستگیر ہوئیں اور ہر مرحلہ پر شفیق آقا نے آپ کی رہنمائی کی اور دعاؤں سے نوازا۔وسائل کا فقدان سیدِ راہ ہوا تو خدا نے کشائش کی راہیں نکال دیں۔کام میں ترقی ہوئی اور کام کرنے والوں کی ضرورت سامنے آئی تو نصرت الہی جلوہ گر ہوئی اور مخلص محنتی اور ایثار پیشہ رفقائے کار میسر ہو گئے جنہوں نے پوری دلسوزی اور عرق ریزی سے معاونت کا حق ادا کیا۔بیرونی رابطوں کی احتیاج واقعی ہوئی تو افراد اور ادارے شرح صدر کے ساتھ معاون و مددگار ہوئے۔غرضیکہ یہ سلسلہ بڑا طویل اور دور دراز ہے۔گویا ہمہ وقت خدا تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کی موسلا دھار بارش برستی رہی اور سیلاب رحمت کی صورت جلوہ گر ہوئی اور آپ کی تصنیف کی ہر سطر اس سیلاب رحمت کی طرف مشار الیہ ہے۔گودانہ از انبارے کے حکم میں ہے مگر پڑھنے والے اس سے بآسانی اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں کہ جماعت کے کاموں میں رختِ سفر اور زادِ راہ تقویٰ ہی ہے۔باقی مولا بس خدا خود می شود ناصر اگر ہمت شود پیدا میرا دل ممنونیت اور احسان مندی کے جذبات سے لبریز ہے۔جذبات کی لطافت کو قائم رکھتے ہوئے اظہار کا ملکہ آپ ایسے قادر الکلام لوگوں کا نصیبہ ہے۔میں اس کوشش میں جذبات کی لطافت و نزاکت کا حرج کرنے کی جسارت نہیں کرتا اور اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے دعا کی عاجزانہ درخواست کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ اس ضرورت اور احتیاج سے محروم نہیں کیا جاؤں گا۔والسلام خالد مسعود نظارت اشاعت، ربوہ 34