سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 305 of 418

سیلابِ رحمت — Page 305

اک عنبر بار تصور نے یادوں کا چمن مہکایا ہے حضرت خلیفہ اسی ارابع حماللہ تعلی کی اور شخصیت کے فیضان کا ذکر کرتے ہوئے ایک جھجک مانع ہوتی ہے کہ کہاں ایک خلیفہ اسیح کا مقام ومرتبہ اور کہاں ایک ذرہ نا چیز کوئی خاندانی، ذاتی ، دینی ، دنیاوی وجاہت نہیں کوئی استحقاق نہیں۔ایک عاجز خاک نشین ، جاہل مطلق بندی اور بیان ایک ہمالہ سے بھی بالا ہستی کا۔کم مائیگی راستہ روکتی ہے پیچھے ہٹنے لگوں تو ضمیر کی آواز ہاتھ تھام لیتی ہے۔ہولے سے کہتی ہے اپنی نیت ٹولو اگر مقصد اپنی ذات کو اُجاگر کرنا ہے تو قلم توڑ دو اور استغفار کرو اور اگر ایک خلیفہ اسیح کی غیر معمولی عنایات کا ذکر کرنا سود ہے تو لکھتی رہو۔تمہاری یادیں جماعت کی امانت ہیں۔آج ایسے ہی انداز فکر سے حوصلہ پاکر تحریر کی جسارت کر رہی ہوں۔خاکسار پر آپ کے احسانات کو ایک پیمانہ سمجھ لیجئے اور اس کے تناسب سے ساری جماعت سے آپ کے حسنِ سلوک کا اندازہ لگائیے۔یہ اللہ تبارک تعالیٰ کے نورانی سلسلے ہیں جن سے وابستگی ذروں کو چمکا دیتی ہے۔اپنی یادوں کے مہکتے ہوئے چمن سے کچھ پھول آپ کے خطوط کے حوالوں سے سجا کے پیش کرتی ہوں۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی سے شرف ملاقات خلافت کے منصب پر سرفراز ہونے کے بعد 29 جولائی 1982 ء کو آپ نے کراچی کی بیت الحمد مارٹن روڈ میں خواتین سے خطاب فرمایا اور اجتماعی بیعت لی۔خاکسار اس بیعت میں 303