سیلابِ رحمت — Page 306
سیلاب رحمت شامل تھی۔پھر آپ نے 1983ء میں کراچی آمد کے موقع پر 14 اور 19 فروری کو لجنہ کو اجتماعی ملاقات کا موقع دیا۔حضور نے فرمایا کہ ایک ایک خاتون یا خاندان کی انفرادی ملاقات کی بجائے سب کو ایک ساتھ بلا لیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اور بچوں کو فائدہ ہو۔یہ پروگرام بہت اچھا رہا۔گیسٹ ہاؤس کے لان میں انتظام تھا۔جوکھا کبھی بھرا ہوا تھا۔پیارے آقا اور بیگم صاحبہ تشریف فرما تھے۔خاکسار کو آپ کے قدموں میں جگہ ملی۔نماز ظہر تک علم و عرفان کا یہ لنگر جاری رہا۔لگتا تھا ہم کسی آسمان پر بیٹھے ہیں۔یہ اجتماعی طویل ملاقاتیں بہت ایمان افروز تھیں۔پھر ایک شام انفرادی تعارف کا بھی موقع ملا۔اس میں حضور نہ صرف نام سے پہچان گئے بلکہ میرے دعا کے لئے لکھے ہوئے خط کا حوالہ بھی دیا۔1984ء میں بھی حضور انور کی کراچی آمد پر اجتماعی ملاقات میں شریک تھی اس کے بعد حضور لندن تشریف لے گئے۔وہاں تک رسائی ہر ایک کے بس میں نہیں تھی۔خطوط رابطے کی صورت تھے۔شدید خواہش تھی اور دعائیں کرتی تھی کہ اللہ تعالی اپنا فضل فرمائے تو میں بھی جاسکوں۔بالآخر حضور کے تشریف لے جانے کے چودہ سال بعد توفیق پرواز ملی اور میں 1998ء میں لندن جا سکی۔جاتے ہی ملاقات کا وقت لیا۔یہ کئی رنگ میں یاد گار ملاقات تھی۔جس کی تفصیل اس کتاب میں شامل ایک مضمون وہ خواب جو بیداری میں دیکھا تھا، میں پیش کی ہے۔دراصل دیکھا جائے تو یہی ایک ملاقات تھی جس میں تفصیل سے کئی موضوعات پر آپ کے ارشادات سنے کا موقع ملا۔الحمد للہ علی ذالک۔اس کے بعد 2002ء میں لندن جانا ہوا۔حضور انور کی صحت بہت کمزور ہو چکی تھی۔ہم ہر وقت آپ کی صحت و عافیت اور طویل با مراد فعال زندگی کی دعائیں مانگتے تھے۔ملاقات کے منتظر بیٹھے تھے۔جب ہماری باری آئی تو مکرم منیر جاوید صاحب نے انتہائی افسردہ لہجے میں کہا: 304