سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 240 of 418

سیلابِ رحمت — Page 240

واجْعَلْ إِن مِن لَّدُنكَ سُلْطَنَا نَصِيراً انا فتحنا لك فتحا مبينة ن الله ببند وانت ولقد نصركم الى مام جماعت احمدية اسم الله الي الحلم نحْمَدُه وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكريم AHMADIYYA MUSLIM گا تو کیسی اسی میں گرا ہے حجاب اترا تو پھر بھی نہ ٹھیرا غیر اسی غزلی کا یہ شعر کا ایک ایسی احمدی شاعرہ کے منہ سے کیا سجتا ہے جس نے قیام حجاب کی راہ میں سالہا سال جانکاہی کی ہو۔چہرہ اس شعر کا بتا رہا ہے کہ یہ نہ تو کیسی زاہد خشک کا کلام ہے نہ کسی بے عملی شاعر کا بلکہ ایک بار یک نظر صاحب تجربه کے دل کی پکار ہے۔دوسرا مصرعہ تو لا جواب ہے وہ حجاب اترا تو پھر آنچل نہ ٹھہرا پھرا ہے اس شعر کو جلی اپنے ی پڑھ کر رہیں کہ اشکوں نے مجھے تو یاد نہیں کہ لفظ کا بل ایسا خوبصورت انه بر محل استعمال کبھی کہیں اور پڑھا ہے۔قافیہ کے استعمال میں اچانک تنوع پیدا کرنے کی شالی بھی ہی چھوٹی سی غزل سے مل جاتی ہے مثلا جو سچ کہ دے اُسے مختل نہ ٹھہرا دوسر یا غزل جو اس خط کے ساتھ آپ نے بھیجی ہے وہ بھی بہت اعلی پائے کی ہے۔شعروں ان نہیں c سے تین شعر ایسے ہیں جنکا پہلا مصرعہ پڑھتے ہوئے وہم بھی نہیں آسکتا کہ دوسرا مصرعہ ایک عام سے مضمون کو اٹھا کر کہاں سے کہاں نے جائے گا 238