سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 226 of 418

سیلابِ رحمت — Page 226

سیلاب رحمت ابھی چند روز ہوئے مصباح میں آپ کی ایک نظم دیکھی جو آنکھوں سے سیدھی دل میں اُترتی چلی گئی اور میں آپ کے لئے دعا کرتا رہا۔“ انہی دنوں لجنہ کے اجتماع میں ایک نظم سنائی جو سب کے بے قرار دلوں کی پکار تھی: لندن کی فضاؤں میں اے بادِ صبا جانا مجھے یاد ہے ہر آنکھ پر نم تھی اور ہر دل دعا گو۔پیارے آقا کو بھی بھیج دی۔آپ نے دست مبارک سے تحریر فرمایا: لندن 9۔1۔1365 1985 عزیزه استرالیادی ناصر MIRZA TAHIR AHMAD HEAD OF THE AHMADIYYA COMMUNITY IN ISLAM اسلام علیکم ورحمته الله وبركاته آپ کی بہت پیاری نظم و یک پست به نظر می خورد کے ساتھ علی - خط بھی تو شعریت میں گذرا ہوا تھا- اور جذبات کی لطافت اور یا کنیز کی میں نظم سے۔پیچھے نہیں تھا۔جزاکم اللہ احسن الجزاء اللہ تعالٰی آپ کی ذہنی اور قلیقی صلاحیتوں کو ان بھی جلد تھے اور اپنے قرب کی راہیں نصیب فرمائے اور اپنے سایہ عاطفت کے نیچے آس کی پر خوبی کو نشو و نما مکار فرماتا رہے اور پر کمزوری کو دھا پیتا رہے بب عزاز وں کو میرا نہایت تحت ہوا سلام است بچیوں کو پیار مجھے لگتا ہے کہ یہ سال ہمارے لئے ہے جو مبارک ہوگا اور اللہ کے پیار اور رحمتوں کے لئے لئے درخشنده نشان لے کر آئے گا۔اللہ میری توقعات سے بہت بڑھ کرار جلہ تر جماعت کی بے انتہا خوشیاں مجھے رکھا کے خدا حافظا آیا سلیم اور دیگر ممبرات مجلس کو محبت میرا له در هر ناندر از اطلس 224