سیلابِ رحمت — Page 216
سہیلی کو بھی مدعو کر رکھا تھا۔سادہ سی اس خاتون نے نہایت پر اثر نظم سنائی۔یہ بہن جی محترمہ پروین صاحبہ سے بے تکلف اور ان کے زیر اثر تعصبات سے پاک تھیں بلکہ جب اُنہوں نے اپنے گھر پر بلایا تو ان کی ایک سہیلی ڈاکٹر شیرن کی موجودگی میں کھل کے باتیں ہوئیں۔گورو بابا نانک کے لئے ہمارے احترام نے اُن کے دل میں کھلی جگہ بنائی ہوئی تھی۔محترمہ امتہ الباسط ایاز صاحبہ کے ہاں بڑی نفیس پارٹی میں خوب دلچسپ باتیں ہوئیں۔اُن کی خوش نصیب والدہ محترمہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔حضور پرنور کے لطائف آدھی انگلش آدھی اردو میں دہرائے گئے۔پر لطف جاندار محفل رہی۔محترمہ طیبہ شہناز کے یہاں لجنہ لندن کا ماضی و حال جمع تھا۔سارا وقت تاریخ لجنہ ہی موضوع رہی۔محترمہ ثریا غازی صاحبہ کے مہمانوں کی گفتگو کا محور بھی یہی رہا۔محترمہ قانتہ شاہدہ راشد صاحبہ سے حضور پرنور کی ہجرت کے وقت کے حالات سنے۔قانتہ نے بتایا کہ ہم ایک کمرے میں سمٹ گئے تھے۔حضور تشریف لائے تو نام لے کر ہمارے بیٹے عطاء المنعم کے متعلق پوچھا اور جب ہم نے بتایا کہ وہ سو رہا ہے تو اُس کے کمرے میں جا کر اُسے سوتے میں پیار کیا۔محترمہ بی بی فائزہ صاحبہ سے بھی ہجرت کی باتیں سنیں۔فائزہ ذہانت سے گفتگو کرتی ہیں۔انداز معصومانہ ہے۔وہاں حضرت بیگم صاحبہ مرحومہ بہت یاد آئیں۔اُن کی مخصوص خوبیوں کا تذکرہ رہا۔فائزہ نے بتایا کہ وہ دلچسپ حس مزاح رکھتی تھیں۔ہلکے پھلکے مہذب مذاق اور جملوں سے محفل کو پر لطف بنا دیتی تھیں۔میں نے سوچا حضور جیسی معمور الاوقات ہستی کی شریک حیات کو یہ وصف اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ودیعت کیا ہو گا۔حضور بھی چست جملے بولنے میں کسی سے کم نہیں۔خوب گزرتی ہوگی۔آخری بیماری کی باتیں بھی ہو ئیں۔اللہ تعالیٰ نے بڑا صبر اور حوصلہ عطا فرمایا ہے۔214