سیلابِ رحمت — Page 217
سیلاب (رحمت) سکھ بانٹتے پھرتے تھے مگر کتنے دکھی تھے بے چارگی غم میں بے چاروں کے سہارے محترمہ اصغری نور الحق صاحبہ کی دعوت پر مشاعرے میں شمولیت کیلئے جاتے ہوئے کار میں فائزہ بی بی ہم سفر تھیں جی بھر کے باتیں ہوئیں۔یہ جی بھر کے محاورہ آگیا ہے۔سچ یہ ہے کہ جی پھر بھی نہیں بھرا۔فائزہ سخن فہم بھی ہیں۔اُن کی موجودگی میں شعر سنا کر لطف آیا۔پھر باتوں باتوں میں ابا کا ذکر آجاتا تو دوطرفہ والہانہ پن سے مزے ہو جاتے۔اپنی بیٹی امتہ الصبور کے شب و روز دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے شکر کے بہت مواقع ملے۔صبور اور عمر دونوں کو اپنی سماعت سے محرومی کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ہے۔دروازے کی گھنٹی بجے یا فون یا فیکس آئے ، بچہ روئے یا آواز دے تو بلب روشن ہوتا ہے۔اس طرح وہ اپنے معمول کے کاموں کو آسانی سے سرانجام دے سکتے ہیں۔بڑے بچے شمر کو نرسری میں خصوصی توجہ سے پڑھایا جاتا ہے۔مجھ سے سب یہ پوچھتے ہیں کہ سماعت سے محروم والدین کے بچے سنتے ہیں؟ بولتے ہیں؟؟ میں وضاحت کر دوں کہ سماعت سے پیدائشی محروم والدین کے بچے بھی ضروری نہیں کہ بہرے ہوں جبکہ صبور اور عمر دونوں بیماریوں کے نتیجہ میں محروم ہوئے تھے۔اللہ پاک کے کرم سے ان کے دونوں بچے نارمل ، ذہین اور صحتمند ہیں۔الحمد للہ۔واپسی کے دن قریب آرہے تھے۔مبشرہ کی Cheltenham کی دعوت پر نکلے تو بارش ہو رہی تھی۔اس کے ہاں جانے کے لئے معمول سے زیادہ وقت لگا۔اچھا ہی ہوا ، اتنا حسین سفر جلدی کٹ جاتا تو ملال ہوتا اُسے شوق رہا کہ دھوپ نکل آئے تو میں رنگ برنگے درختوں کا اصل حسن دیکھ سکوں۔میری دعا تھی برف باری ہو تو یہ مزہ بھی دیکھوں۔اُس دن میری دعاسنی گئی اور ہلکی برف باری ہوئی۔نزدیکی پہاڑی پر چڑھ کر دور دور کا نظارہ کیا۔شکور صاحب نے 215