سیلابِ رحمت — Page 44
سیلاب رحمت نگرانی میں لے لیا۔مروجہ صدارتی نظام معطل کر کے ایک پانچ رکنی کمیٹی مقرر فرمائی۔اس وقت یہ محسوس ہوا تھا کہ یہ تبدیلی لجنہ کی کمزوریوں اور کوتاہیوں پر بطور سزا کی گئی ہے۔مگر یہ کیسی سزا تھی جو رحمتوں کی بارش میں بدل گئی۔تیرے اے میرے مربی کیا عجائب کام ہیں گرچہ بھا گیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار کمیٹی اپنی کارکردگی کی رپورٹیں حضور رحمہ اللہ کو بھیجیں۔دعاؤں اور حوصلہ افزائی کے خطوط آتے۔الہی تقدیر کے مطابق جون 1982ء میں ہمارا محسن آقا داغ مفارقت دے گیا۔جانے والے کی مقدس روح کیلئے دعائیں کرتے ہوئے قدرت ثانیہ کے چوتھے مظہر کا استقبال کیا۔اب ہماری رپورٹیں حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی خدمت میں جانے لگیں۔فروری 1983ء کو حضور انور خلافت کی قبا پہننے کے بعد پہلی دفعہ کراچی تشریف لائے تو کراچی کی بہاریں دیدنی تھیں۔گیسٹ ہاؤس میں ہر وقت جشن کا سماں رہتا۔وسیع سبزہ زار پر اجتماعی ملاقاتوں میں علم و عرفان کی بارش ہوتی۔انفرادی ملاقاتوں میں حضور انور کے ارشاد پر یہ طریق اختیار کیا گیا کہ ایک کمرے میں بہت سی خواتین جمع ہو جاتیں تو حضور انور تشریف لے آتے۔خواتین باری باری اپنا تعارف کرواتیں ، دعا کی درخواست کرتیں۔خاکسار بھی کمرے میں بیٹھی سوچ رہی تھی کہ حضور سے اپنا تعارف کیسے کراؤں گی۔ہمارے بزرگوں سے تو حضور خوب واقف تھے مگر خاکسار ایک بے حیثیت ذرہ تھی۔سوچ رہی تھی کہ ابا جان کا نام لوں یا بھائیجان کا۔اتنے میں میری باری آگئی : حضور ! میں امتہ الباری ناصر ہوں۔۔۔66 ابھی میرا جملہ پورا نہیں ہوا تھا کہ حضور نے فرمایا: 44