سیلابِ رحمت — Page 413
ہجر کو لمحے میں وصال کیا سارا قصہ ہی انفصال کیا ہو بہو تھا وہ باپ کی تشبیہ اُس نے دادا کو بھی مثال کیا اُس کا جینا بھی اک کمال کا تھا اس نے رحلت میں بھی کمال کیا عہد حاضر کا عہد ساز تھا وہ کام ہر ایک لازوال کیا جھولی بھر نے میں تھا وہ حاتم وقت جس نے جب بھی کبھی سوال کیا شعر فہمی اُسے ودیعت تھی میں نے شعروں میں عرض حال کیا ناز کرتی ہوں عجز سے بے حد اُس نے میرا بڑا خیال کیا وآخر دعوانا عن الحمد لله رب العلمین 409