سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 410 of 418

سیلابِ رحمت — Page 410

سیلاب رحمت جھونکا نہ کبھی گرم ہوا کا اُسے چھوئے ہر آن لئے سائے میں رحمت کی ردا ہو ایسے میں بہت درد سے ہوتی ہیں دعائیں جب سینے میں دُکھ درد سے اک حشر بپا ہو کشکول لئے بیٹھے ہیں سب در کے بھکاری اس محسن و مشفق کو عطا پوری شفا ہو ہم کشکول لئے پھر رہے تھے کہ مولی کریم اس میں آقا کی کامل شفا کی خیرات ڈال دے،مگر جو ہمارا پیارا تھاوہ اللہ کا بھی پیارا تھا۔بلانے والے کا بلاوا اچانک آگیا۔تیرہ اپریل کی ایک گرم دو پہر تھی۔جب معمول کے کاموں کے بعد ذرا تھکن محسوس ہوئی تو کچھ دیر آرام کرنے کے لیے اپنے کمرے میں آکر لیٹی ہی تھی کہ ہماری بہو مینا نے آواز دی: امی۔۔! اس کی آواز میں اتنا درد تھا کہ میں سمجھی ضرور کوئی بہت ہی بری خبر ہے۔اس سے بولا نہیں جار ہا تھا۔کیا ہوا؟ میں نے گھبرا کر پوچھا تو اس نے روتے ہوئے ٹی وی کی طرف اشارہ کیا مکرم منیر احمد جاوید صاحب وہ دلدوز خبر سنارہے تھے جس کے سننے کی کسی میں تاب نہ تھی۔پھر ایم ٹی اے پر اس شاہزادے کا آخری سفر دکھایا گیا۔وہ جری اللہ سب کو تڑ پتا چھوڑ کر فرشتوں کی سی معصومیت سے گہری نیند سو گیا تھا۔جیسے کہہ رہا ہو: بہت مشکل ہے یہ بارِ خلافت میں اب آرام کرنا چاہتا ہوں 406