سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 406 of 418

سیلابِ رحمت — Page 406

سیلاب رحمت ہیں یعنی آپ کی اپنی چابی ہی سے تالے کھل گئے۔جہاں تک اصلاح کے اشاروں کا تعلق ہے ذوق لطافت سے تو انکار نہیں لیکن میری سوچیں جن راہوں سے گزرچکی ہیں ان کا آپ کو علم نہیں۔ہم نے کوئلہ کوئلہ اپنا دل میں یہ امر مانع تھا کہ اول اس طرح ایک ایک کر کے کوئلے کے بعد دوسرے کوئلے کا تصور اُبھرتا ہے جب کہ موجودہ جگہ پر کوئلہ کی تکرار پہلے ہی سے جل جل کر کوئلہ ہوئے ہوئے دل کا تصور پیش کرتی ہے۔آنچل لہرانے یا بکھرانے میں یہ روک پیش نظر تھی کہ دو تین شعر جو اس غزل میں پڑھے نہیں گئے ان میں ایک آنچل لہرانے والا شعر بھی تھا۔دوسرے یہ نہ بھی ہوتا تو شفق کے چہرے پر آنچل لہرانے یا بکھرانے کی بجائے گیسو بکھرانے کا مضمون زیادہ برحل معلوم ہوتا ہے۔آنچل سے یا پلو سے چہرہ چھپایا تو جاتا ہے چہرے پر آنچل لہرایا یا بکھرا یا نہیں جاتا۔جو شعر پڑھے نہیں گئے ان میں سے جو یاد ہیں وہ لکھ دیتا ہوں : خالق کی طرح پر بت بھی ایک نئی شان ہر آن بدلتا ہے موسم کے رقص و سرود نے جلووں کا دربار لگایا ہے چمپئی کاسنی اودے پہلے پھول کھلے ہیں سبزے پر مست ہواؤں نے آنچل لہکایا ہے بہکی بہکی دور افق پر اور ہی رت ہے چھائی ہے گھنگھور گھٹا بادل نے بجلی نے گرج نے اک کہرام مچایا ہے 402