سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 389 of 418

سیلابِ رحمت — Page 389

نظم نمبر -29 تری بقا کا سفر تھا قدم قدم اعجاز اس نظم کو پڑھتے ہوئے ایک شعر مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا۔ہو موت اس کی رضا پر یہی کرامت ہے خوشی سے اس کے کہے میں جو کھا ئیں سم، اعجاز میں نے پڑھتے ہوئے اس پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا کہ مزید غور کروں گی۔پیارے آقا کی نظر اس سوالیہ نشان پر پڑ گئی۔میری الجھن دور کرنے کیلئے وضاحت فرمائی: اس نظم کے دسویں شعر کے دوسرے مصرع کے سامنے آپ نے سوالیہ نشان ڈالا ہے۔یہ مصرع یوں ہے : خوشی سے اس کے کہے میں جو کھا ئیں سم اعجاز یہاں خدا تعالیٰ کا اعجاز مراد نہیں ہے بلکہ انسان کی کرامت اور اس کا اعجاز مراد ہے۔یہی مضمون ہے جو پہلے مصرع نے واضح کر دیا ہے۔گو یا اعجاز تو یہ ہے کہ انسان اس کے کہے میں خوشی سے زہر بھی کھا جائے اور موت کی قطعاً پرواہ نہ کرے۔پر واہ ہو تو صرف اس کی رضا کی ہو اور اس کی خاطر انسان تلخ سے تلخ گھونٹ پینے پر ہرلمحہ مستعدر ہے۔“ نظم نمبر 30 ( مكتوب 15۔5۔93 صفحہ 3) الفضل 7 مئی 1992 ء کے شمارہ میں صفحہ اول پر میری ایک پرانی نظم بی بی کے وصال 385