سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 390 of 418

سیلابِ رحمت — Page 390

سیلاب رحمت پر چسپاں ہونے والے کچھ نئے اشعار اضافہ کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔اس پر بھی میں نے نظر ثانی کی ہے اور اس کے علاوہ آخر پر بعض مزید اشعار کا اضافہ کیا ہے وہ بھی شامل کرلیں : تم جن کا وسیلہ تھیں وہ روتی ہیں کہ تم نے دم توڑ کے توڑے ہیں ہزاروں کے سہارے وہ آخری ایام وہ بہتے ہوئے خاموش حرفوں کے بدن، اشکوں کے دھاروں کے سہارے بھیگی ہوئی، بجھتی ہوئی، مٹتی ہوئی آواز اظہار تمنا وہ اشاروں کے سہارے ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہنا دم رخصت وہ ہاتھ میں نے نہیں جینا نگہداروں کے سہارے وہ جن کو نہ راس آئیں طبیبوں کے دلاسے شاید کہ بہل جائیں، نگاروں کے سہارے آ بیٹھ مرے پاس مرا دست تہی تھام مت چھوڑ کے جا درد کے ماروں کے سہارے آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آخری دواشعار کی طرف توجہ دلا دی کہ ان کے درمیان کچھ کمی سی معلوم ہوتی ہے۔مجھے بھی لگ رہا تھا۔بہر حال آپ نے بہت اچھا کیا جو توجہ دلائی۔شروع میں ان سے میں مخاطب ہوں مگر آخر پر وہ مجھ سے مخاطب ہیں۔اس لئے مضمون کو مزید کھولنے کیلئے میں نے چند نئے شعروں کا اضافہ کر دیا ہے۔امید ہے اب اس 386