سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 38 of 418

سیلابِ رحمت — Page 38

ب رحمت تیز قدموں سے آگے بڑھنے لگی۔حضرت ام المؤمنین سیدہ نصرت جہاں بیگم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تربیت میں خواتین نے احیائے دین کے کاموں میں بھر پور حصہ لیا۔پھر قدرت ثانیہ کے دور میں خلفائے کرام نے خواتین میں جہادِ دین کی روح کو زندہ تر کیا۔1922ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لجنہ اماءاللہ قائم فرمائی، جس کے مقاصد اعلی ترین ترقی کے حصول کے لئے خواتین کو بیدار کرنا ، تربیت دینا اور مل کر جد و جہد کرنا تھے۔آپ نے جلسہ سالانہ 1922ء کے موقع پر اپنے خطاب میں ارشاد فرمایا: کوئی دین ترقی نہیں کر سکتا جب تک عورتیں ترقی نہ کریں۔پس اسلام کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ تم بھی ترقی کرو۔عورتیں کمرے کی چار دیواری میں سے دو دیوار میں ہیں، گر جائیں تو کیا اس کمرے کی چھت 66 قائم رہ سکتی ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔“ الاز ہار لذوات الخمار - صفحہ ۵۸،۵۷) کمرے کی دیواروں کو مضبوط کر کے عمارت کو مستحکم بنانے کیلئے آپ نے ذاتی طور پر تعلیم کو کومستحکم و تدریس میں حصہ لیا۔پھر آپ کے بعد حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ اور حضرت خليفة امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو جاری رکھا۔اور اب بفضل الہی حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بڑی شان سے اس جھنڈے کو اُٹھا کر ترقی کی جانب گامزن ہیں۔الا زہار لذوات الخمار کی جلدیں ہمارے خلفاء کرام کی ان کاوشوں کی شاہد ہیں۔حضرت مصلح موعود بیانہ کا احدی خواتین کی ترقی کا خواب کس طرح شرمندہ تعبیر ہورہا ہے ایک اقتباس دیکھئے۔حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحم اللہ تعالی فرماتے ہیں: دُنیا بھر کی تمام خواتین سے مقابلہ کر کے دیکھیں کہ کسی قوم میں 38