سیلابِ رحمت — Page 37
بھیج دروداُس محسن پر تو دن میں سوسو بار ل محمد مصطفیٰ نبیوں کا سردار رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفی صلی یا ستم کے طبقہ ءاناث پر احسانات کا اندازہ زمانہ جاہلیت میں عورت کی ناقدری کی نسبت سے ہوتا ہے۔اس کا وجود دھرتی پر بوجھ تصور ہوتا ، زندہ گاڑ دی جاتی ، ترکے میں بانٹی جاتی ، غلاموں اور قیدیوں سے بدتر سلوک ہوتا۔اس محسن اعظم نے اس کے حقوق قائم فرمائے ، عزت و وقار کا مقام دیا۔خودحسنِ سلوک سے بہترین نمونہ دکھلایا، اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا۔اس سے حوصلہ پاکر خواتین نے معاشرہ میں اہم کردار ادا کیا۔تاریخ میں اسلام کے دور اول کی خواتین کے محفوظ کار ہائے نمایاں آج بھی روشن مثالوں کی طرح جگمگاتے ہیں۔مگر پھر وقت گزرنے کے ساتھ اسلام کی حقیقی تعلیم فراموش ہوتی گئی۔عورت پہلے سے بڑھ کر دور جاہلیت جیسے اندھیروں میں چلی گئی۔دور آخرین میں اسلام کا احیائے نو مقدر تھا۔چنانچہ حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام کی تشریف آوری سے اس طبقے کا وقار بحال ہوا۔اس کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوا۔ترقی کے مواقع ملنے کی وجہ سے اپنی خدا داد ذہانت سے وہ خدمت دین میں تیز 37