سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 335 of 418

سیلابِ رحمت — Page 335

سیلاب رحمت بھجوانا تو ایک خلاف حکمت بات تھی۔ان کو تو خدا نے ایسی دلکش آواز اور ترنم کے زیر و بم پر اختیار عطا فرمایا ہے کہ ان کو تو یہ نظم ترنم کے نمونہ کے طور پر بھجوانا ایک مضحکہ خیز بات ہوتی۔یہ نظم بعد میں کسی وقت گلے کی بہتر حالت کے وقت بہتر رنگ میں بھی ادا ہوسکتی تھی مگر مشکل یہ تھی کہ عزیزم قمر سلیمان کو دوسرے دن ربوہ واپس جانا تھا۔اگر اُن کے جانے ہلے ٹیسٹس تیار نہ ہو جاتیں تو اسیرانِ راہِ مولا کو نہ بھجواسکتا۔دراصل هد یہ ان کی امانت تھی۔امید ہے ان تک پہنچ چکی ہوگی عزیزم عبید اللہ صاحب علیم کو بھی بات سمجھا دیں۔ورنہ وہ بیچارے حیران بیٹھے رہیں گے کہ یہ مجھے کیا سوجھی ادب ، محبت اور اخلاص کا پتلا ہیں۔طبعی رد عمل کو ذہن کے پردے پر الفاظ میں ڈھلتا دیکھ کر بھی گھبرائیں گے۔لیکن اصل نیت معلوم ہو جائے تو سب اُلجھن ختم ہو جائے گی۔پچھلے دنوں بعض مشاعروں کی کیسٹس سنے کا موقع ملا۔ان کا کلام سنتے ہوئے بعض دفعہ قلم توڑنے کے محاورہ کی حقیقت سمجھ آجاتی ہے اور یہ بات کوئی شاعرانہ مبالغہ نہیں رہتی۔میرے نزدیک تو اس دور کے آسمانِ شعر و ادب میں ان سے بلند پرواز کرنے والا اور کوئی شاعر دکھائی نہیں دیتا۔بعض اُڑانوں نے تو ہفت آسمان سر پر اُٹھا رکھا ہے۔کئی دفعہ سوچا اُن کو خط لکھنے کا مگر پھر اتنا لکھنا پڑے گا اور پھر بھی سیری نہ ہوگی تو کیا فائدہ۔بہتر ہے آپ ہی کی 331