سیلابِ رحمت — Page 330
7-10-98 " آج میں آپ کا نواسا دیکھنے آپ کی بچی کے گھر گیا تھا۔بہت مزہ آیا۔ماشاء اللہ دونوں بہت ہی خوش ہیں اور اپنے اپنے آرٹ سے اپنا گھر سجایا ہوا ہے۔اب جو مشتر کہ آرٹ کا نمونہ بیٹے کی صورت میں تخلیق ہوا ہے۔وہ ماں باپ دونوں کی دلکش آمیزش سے تخلیق پایا ہے۔“ دوسرے بیٹے عزیزم محمود احمد اور چھوٹی بیٹی امتہ الشافی کی شادیاں بھی آپ کی دعاؤں سے بابرکت ہوئیں۔شافی نے دو دفعہ آپ کا فون ریسیو کیا تھا اس کا ذکر بے حد خوشی سے کرتی ہے۔اسی طرح جب اس نے ایم ٹی اے کے لئے ریکارڈنگ میں کام کیا تو حضور انور کی طرف سے حوصلہ افزائی کا خط ملا۔بچی کے نام خط میں اپنائیت اور پیار کے اظہار کا نمونہ دیکھئے تحریر فرمایا: ”اُمید ہے تمہارے ابا کی پریشانیاں ختم ہوگئی ہوں گی اور امی کو لجنہ کے کاموں سے گھر کے لئے بھی فرصت مل جاتی ہوگی لیکن گھر کے لئے فرصت ملے بھی تو شعر سوچنے میں وقت گزر جاتا ہو گا۔کبھی تمہیں پیار دینے کا موقع ملا ہے یا نہیں۔“ کیسی فراست تھی کہ بچی کو سمجھا دیا کہ امی ابا مصروف ہوں تو زیادہ توجہ نہ ملنے کومحسوس نہ کرے اور ہمیں بھی سمجھا دیا کہ بچوں کا حق ہوتا ہے کہ انہیں پیار ملے۔ہمارے پیارے آقا کی شفقتوں کی کوئی انتہانہ تھی۔آپ تو ہمارے گھر کے ایک فرد تھے۔328