سیلابِ رحمت — Page 315
عرض کیا : رجی مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے۔وہ نظم بہت ہی پیاری ہے۔حضور میری بیٹی آئی ہے۔بڑی بیٹی جو شادی ہو کے کینیڈا گئی تھی۔ماشاء اللہ خوش ہے، بہت عزت ملی ہے فرمایا: 66 دوشکر ہے آپ کو مبارک ہو۔میں بھی خوش ہوں کہ بیٹی خوش ہے۔“ 66 ”حضور میرے بچوں کو دعاؤں میں یادرکھیں، ناصر صاحب کو بھی۔“ ” خدا تعالیٰ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی رکھے۔اب تو آپ خوش ہیں، لمبی بات ہو 66 گئی۔اب تو نہیں کہیں گی کہ لمبی بات نہ ہو سکی۔اچھا خدا حافظ۔السلام علیکم۔“ ایک دفعہ پھر یہ نعمت ایسے میسر آئی جیسے کوئی دعا قبول ہوتی ہے۔11 نومبر 1992ء کی بات ہے۔صدر لجنہ کراچی محترمہ آپا سلیمہ میر صاحبہ نے احمد یہ ہال میں ضروری میٹنگ رکھی تھی۔ہمارا گھر اُن کے راستے میں پڑتا تھا۔مجھے ساتھ لے لیا۔فوراً ہی باتوں کا عنوان حضرت صاحب ہو گیا۔میں نے آپا سے کہا کہ آج کل حضور انور سے پوچھنے کی بہت سی باتیں جمع ہو گئی ہیں۔خط کا جواب آنے میں بہت وقت لگ جاتا ہے۔دل کرتا ہے فون کی سہولت ہوتی تو فوراً پوچھ لیا کرتی۔آپا نے مشورہ دیا کہ سب باتیں لکھ کر فیکس کروا دو۔( اُن دنوں کلام طاہر - حوا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ اور ترجمے کا کچھ کام ہورہا تھا) یہ خواہش اللہ تعالیٰ نے فوراً اسی دن پوری کر دی۔شام کو ہم فون پر صاحبزادی امتہ المتین صاحبہ کا ایک پیغام دینے کے لئے ربوہ کی کال ملانے کی کوشش کر رہے تھے کہ دوسرے فون پر گھنٹی ہوئی۔او پرشانی نے فون اُٹھایا۔کسی نے پوچھا امی کہاں ہیں۔اُس نے کہا نیچے ہیں۔نیچے کیا کر رہی 313