سیلابِ رحمت — Page 307
سیلاب رحمت جائیں۔۔مل لیں۔ناصر صاحب اور خاکساراندر گئے تو دل کو بہت دھکا لگا۔آپ کے انداز میں شناسائی نہیں تھی۔مجھے لگا آپ نے پہچانا بھی نہیں۔بس خیر خیریت پوچھی۔میکانکی انداز میں تصویر ہوئی۔بمشکل خود کو سنبھال کر باہر آئے۔یہی کیفیت نظم ہوگئی۔یہ سوچ میں ڈوبا ہوا ٹھہرا ہوا انداز جیسے کبھی آپس میں تعلق نہ رہا ہو مجھ سے تو نہیں رکتے یہ بہتے ہوئے آنسو کیا بات ہے کیا ہو گیا کیوں مجھ سے خفا ہو تم نے تو کبھی درد کو یوں راہ نہ دی تھی گویا که در دل پہ کڑا پہرا رہا ہو یہ آپ سے آخری ملاقات تھی۔حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ کی طرف سے ملنے والے تحائف اللہ تعالیٰ کے بے پایاں احسانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حضور انور نے خاکسار کو تین کتابیں اور ایک پین بطور تحفہ عنایت فرمائے۔گیسٹ ہاؤس سے نائب امیر ضلع کراچی محترم مرزا عبد الرحیم بیگ صاحب کا فون آنا بجائے خود بہت اہمیت کا حامل تھا اس پر اُن کی آواز میں بے انتہا خوشی نے اشتیاق کو مزید ہوا دی۔میں ہمہ تن گوش تھی بیگ صاحب فرما رہے تھے۔آپ کے لئے حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے تحفہ بھیجا ہے۔یہ بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔آپ کو اندازہ نہیں یہ کتنی بڑی خوش نصیبی ہے۔حضور نے آپ کو اپنی کتاب دستخط کر کے بھیجی ہے۔کراچی میں صرف چار کتب آئی 305