سیلابِ رحمت — Page 294
سیلاب رحمت قادیان اپنے روحانی مرکز ہونے کی وجہ سے محبت اور تکریم کا مرکز بھی رہا۔ربوہ کی بستی آباد ہوگئی مگر قادیان کا مقام اپنی جگہ ہے۔ربوہ میں آج کل ہے جاری نظام اپنا پر قادیاں رہے گا مرکز مدام اپنا 1947ء سے 1991ء تک چوالیس سال قادیان سے دور رہنے کے بعد جب قادیان کیلئے رخت سفر باندھا تو جذبات نظم میں ڈھل گئے۔”اپنے دیس میں اپنی ایک سندرسی بستی تھی، اس میں اپنا ایک سند رسا گھر تھا۔میں ملکوں ملکوں پھر امگر اس کی یادیں ساتھ لئے پھر آکبھی میرا تن من دھن اس کے اندر تھا اب وہ میرے من میں بستی ہے۔اس کے رہنے والے سادہ اور غریب تو تھے لیکن نیک نصیب تھے۔ہر بندہ دوسرے کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتا تھا وہ بڑے سچے لوگ تھے وہ بڑی سچی بستی تھی۔وہاں جو جتنا بڑا تھا اتنا ہی خاکسار تھا۔اس دھرتی میں وہ موعود مسیحا پیدا ہوا جس کا صدیوں سے انتظار تھا۔اس نے آکر دین حق کا احیاء کیا پوری دنیا سے حق آشنا یہاں جمع ہوتے۔اس قدر پھل پڑا کہ زندہ درخت میووں سے لد گئے۔اس مسیح موعود کی صورت میں جو نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفی سالانہ اسلام کا عاشق تھا۔میں نے بھی اس سے فیض پایا ہے۔یہ اس کا اثر ہے کہ ہمیں خدا تعالیٰ کی محبت ملی گو یا خود خدا تعالیٰ مل گیا۔کیڑی سے کم تر کے گھر نارائن آ گیا۔اس کے سارے کام 292