سیلابِ رحمت — Page 273
رحمت ا بھی الفضل، مورخہ 29 رمضان المبارک میں شائع شدہ ایک مضمون بعنوان ”خوشا نصیب کہ ہم میزبان تھے ان کے ( حاشیہ: میں نے اس عنوان کو بدل کر صرف اتنا تصرف کیا ہے کہ میزبان کو مہمان" میں بدل دیا ہے ) پڑھا ہے۔دل کی عجیب کیفیت ہے۔لاہور اسلام آباد، راولپنڈی ، شیخوپورہ، کراچی، حیدرآباد ، میر پور خاص ، ناصر آباد وغیرہ میں سفر کے دوران کہیں تھوڑا کہیں زیادہ موقع ملتا تھا۔وہ بھی ہمیشہ تھوڑا ہی معلوم ہوا۔آن کی آن میں وقت گزر جایا کرتا تھا۔یہ مضمون پڑھتے ہوئے وہ سب یادیں ہجوم در ہجوم امڈ آئیں۔جوں جوں پڑھتا گیا دل گداز ہوتا چلا گیا اور پانی برستارہا۔کس نے اتنا اچھا مضمون لکھا ہے۔اتنا سلجھا ہوا،اتنامتوازن،اتنا مشستہ، مسکراہٹوں کے ریشم میں درد لیٹے ہوئے۔سنجیدہ باتوں کے ہمراہ اُن کی انگلیاں پکڑے ہوئے ہلکی پھلکی لا ابالی باتیں بھی کمسن بچیوں کی طرح ساتھ ساتھ چلتی دوڑتی دکھائی دیتی تھیں۔تحریر تو امتہ الباری ناصر سلمھا اللہ کی دکھائی دیتی ہے لیکن لگتا یہ ہے کہ آپ کی ساری عاملہ نے مل جُل کر لکھوایا ہے۔کچھ مشورے باہم ضرور ہوئے ہوں گے جو اتنے رنگوں میں اثبات بہار ہوا ہے۔بعض دفعہ کاموں میں ایسا انہاک ہوتا ہے کہ سب یادوں کے رشتے معطل ہوئے ہوتے ہیں۔اچانک کوئی پر درد خط، کسی خط میں کوئی سادہ سا بے ساختہ اظہار تعلق ، کوئی پرتاثیر نظم ، کوئی اچھوتی شائستہ 271