سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 268 of 418

سیلابِ رحمت — Page 268

سیلاب رحمت مشفقانہ دادو تحسین کا ذکر کروں گی، جس سے آپ کی وسعت قلبی اور ذرہ نوازی کا اندازہ ہوگا۔آپ کا حسن نظر ، حقیر لکھاریوں کیلئے جینے کا سامان عطا کرتا۔اپنی حقیقت سے آگاہ ہوں اس تناظر میں آقا کے بڑھاوے اور دعاؤں کے سہارے میں بالکل ماں کا سا انداز ہے۔خود ہاتھ پکڑ کر چلنا سکھاتے ہیں پھر خوش ہوتے ہیں کہ بچہ کیسا اچھا چلنا سیکھ گیا۔پہلی بار ایک جملے پر داد ملی۔گیسٹ ہاؤس کراچی کے سبزہ زار پر محفل سوال جواب کی ہے۔حضور کے ہاتھ میں سوالات کی پرچیاں تھیں۔آپ نے پہلی پر چی اُٹھائی سوال پڑھا۔کیا نظر لگنا برحق ہے؟ مسکرائے اور فرمایا: لکھا کسی نے خوب ہے نظر لگنا برحق ہے!“ دل چاہا اُچھل کر کھڑی ہو جاؤں اور بچوں کی طرح چیخ کر کہوں یہ میں نے لکھا ہے۔بہت خوشی ہوئی اور اترا اترا کر سب کو بتاتی رہی۔پھر حضور ہجرت فرما گئے۔ایک درد بھرا دورِ مہجوری تھا۔آپ دیار مغرب میں جابسے۔ہمارے پاس رابطے کی صورت خطوط رہ گئے۔لجنہ کراچی کے شعبہ اشاعت سے منسلک ہونے کی وجہ سے بہت سے امور میں رہنمائی کیلئے خط لکھتی۔آپ کی پارکھ نگا ہیں ہماری مبتد یانہ باتوں میں بھی حسن تلاش کر لیتیں۔یہ محض فضل و احسان الہی ہے کہ میری جھولی لعل و جواہر سے بھر دی۔اردو ادب میں خطوط غالب کا بڑا مقام ہے۔اگر ہم خطوط طا ہر مرتب کر سکیں تو ادبیت کا کوئی اور ہمالہ تر اشنا ہوگا۔پیارے حضور نے کئی مرتبہ خاکسار کی نثر کوسراہا۔ایک مضمون پر داد کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔کراچی لجنہ کی طرف سے صد سالہ جشن تشکر پر مجلہ الحراب تیار کر رہی تھی۔ہمیں یہ سعادت حاصل تھی کہ حضور اپنے دور خلافت کے ابتدائی سال جو پاکستان میں رہے کراچی تشریف لاتے رہے اور لجنہ کو خاص طور پر نوازا۔مجالس عرفان منعقد ہوئیں۔انفرادی اور 266