سیلابِ رحمت — Page 266
ب رحمت ہیں۔۔۔ماشاء اللہ۔اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔25 جنوری کے الفضل میں بھی آپ کی بڑی اچھی نظم چھپی ہے۔“ اس طرح کے دعائیہ خطوط مجھے ایسی خوشی عطا کرتے کہ میں کسی دوسرے کی داد سے بے نیاز ہو جاتی۔ایک سلسلہ ربط ہم جاری رہتا جس میں سراسر آقا کی شفقت اور احسان تھا۔دلداری کے کئی پہلو تھے۔نظم بیٹے کی ماں بہت مقبول ہوئی اپنے آقا کو بھیج دی جواب ملا۔بہت بہت شکریہ۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔بہت مزیدار نظم ہے۔( مكتوب 2001-03-22) نیز آپ کے ارشاد پر یہ ظلم الفضل انٹر نیشنل میں شائع ہوئی۔پیارے حضور کی دلدار یوں پر اپنی کیفیات کا اظہار کرنے لگوں تو کئی کتابیں لکھنے سے بھی حق ادا نہ ہوگا۔حضور کا حسن نظر ہے ورنہ اپنی کم مائیگی کا ادراک ہے۔اگر کوئی میرا یہ مضمون پڑھے تو خلیفہ وقت کی دعائیں لینے کے لئے ہر صلاحیت دین کے لئے وقف کر دے۔خدا تعالیٰ کا ہو جائے۔اُس سے راضی ہو جائے اُس کی رضا کی جنت حاصل کرلے۔یہی میری مراد ہے یہی میرا صلہ ہے۔شعر و سخن میں خاکسار کی حوصلہ افزائی کرنے اور کلام کے سقم دور کرنے میں مشوروں کے لئے محترم بھائی نسیم سیفی صاحب مرحوم، محترم سلیم شاہجہانپوری صاحب مرحوم، محترم شاہد منصور لکھنوی صاحب اور محترمہ برکت ناصر صاحبہ کی شکر گزار ہوں۔مؤخر الذکر شعر گونہیں شعر فہم ہیں۔نظم پڑھ کر بے تکلفی سے کہتیں کہ : ”اے لفظ میرے منہ تے نہیں چڑدا پھر میں متبادل لفظ تلاش کر لیتی۔محترم خالد محمود اعوان صاحب نے غیر معمولی محنت سے لخت لخت کلام کو مربوط کیا۔جزاهم الله تعالیٰ احسن الجزا فی الدارین خیرا۔264