سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 264 of 418

سیلابِ رحمت — Page 264

سیلاب رحمت ہوئی ہے اسے پڑھ کر بہت لطف آیا۔ویسے تو ساری نظم ہی بڑی اچھی ہے اور تازہ بتازہ ہے لیکن یہ اشعار بہت بلند پایہ ہیں: آتا ہے نظر تاروں میں مہتاب علیحدہ ہر پہلو سے ہے وہ دُر نایاب علیحدہ ترتیب سے رکھتی نہیں یادیں کبھی لیکن باندھا ہے ترے نام کا اک باب علیحدہ حرفوں کے بدن ٹوٹے ہیں اس شب کی دُکھن سے جو یاد میں گزری شب مہتاب علیحدہ اب چارہ گری کوشش ناکام رہے گی اس مرتبہ ہیں درد کے اسباب علیحده اللہ آپ کے علم و عمل میں برکت دے اور عرفان کو مزید بڑھائے۔“ یہی غزل قیام لندن کے دوران مکرم سامی صاحب کی فرمائش پر الفضل انٹرنیشنل کے لئے دی۔پیارے آقا کی نگاہوں میں آئی۔از خود آپ نے خط لکھا اور جب میں واپسی سے پہلے ملاقات کی انتظار میں آپ کے آفس کے باہر بیٹھی تھی۔پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے یہ خط مجھے تھا یا۔تصور کیجئے کبھی خط کے لئے راہ تکتے تکتے آنکھیں تھک جاتی ہیں اور کبھی آفس کے باہر بیٹھے ہاتھ کے ہاتھ خط مل جاتا ہے۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ۔آپ نے تحریر فرمایا: " آپ کی جو نظم الفضل انٹر نیشنل، کے شمارہ 17 اپریل تا 123 اپریل 1998 میں شائع ہوئی اس کے یہ دوشعر تو بہت ہی اعلیٰ درجہ کے ہیں ؎ 262