سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 263 of 418

سیلابِ رحمت — Page 263

وو ب رحمت نظم کی شگفتگی نے یہ شوق اچھالا کہ حضور کو بھیج دی جواب ملا : دوسری نظم جو ڈش انٹینا کے متعلق ہے بہت اچھی ہے ماشاء اللہ جس طرح پہلی نظم نفسِ مضمون کے مطابق شایانِ شان تھی اسی طرح یہ بھی نفس مضمون کے عین مطابق ہے۔بڑی کھلی ہوئی ، رنگین اور معطر نظم ہے جزاکم اللہ احسن الجزاء اللہ آپ کے ساتھ ہو۔شہد کی مکھیوں کو محبت بھر اسلام۔“ پیارے حضور لجنہ کراچی کو شہد کی مکھیاں، کہتے تھے۔جس سے ہم بے حد لطف لیتے۔حضور کو خطوط لکھنے میں خاکسار بے تکلفی سے سارا احوال لجنہ کے دفتر اور اپنے گھر کا لکھ دیتی۔آپ کے جوابات سے اندازہ ہوتا کہ آپ محظوظ ہوتے ہیں۔خوشی کا اظہار بھی دل کھول کر فرماتے دل رکھنے کا فن بھی آپ کو خوب آتا تھا۔ایک نظم کا ایک شعر داد حاصل کر گیا۔پہلا شعر تھا: سامنے ہو نگاہ کے دور بھی ہو نگاہ سے اس کیفیت کو کیا کہوں ہجر ہے یا وصال ہے؟ آپ نے تحریر فرمایا: ” ایک شعر جو ساری غزلوں کا جان و مال ہے اس کی داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا۔واقعی یہ بہت جاندار شعر ہے۔وقت کا ٹوٹتا بدن شام کی سرمئی تھکن آنکھوں میں جاگتی لگن دل کا عجیب حال ہے“ ( مكتوب 96-10-5) خاکسار کی ایک غزل بہت خوش قسمت ہے اس کو دو دفعہ حضور پر نور سے داد ملی۔پہلی دفعہ تیرہ مارچ 1997ء کے الفضل میں چھپی تو حضور ایدہ الودود نے تحریر فرمایا: والفضل کے 13 مارچ 1997 کے شمارہ میں آپ کی جو نظم شائع 261