سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 25 of 418

سیلابِ رحمت — Page 25

سیلاب رحمت خوب سجی یادوں کی محفل، مہمانوں نے تاپے ہاتھ ہم نے اپنا کوئلہ کوئلہ، دل دہکایا ساری رات روتے روتے سینے پر سر رکھ کر سوگئی ان کی یاد کون پیا تھا؟ کون پریمی؟ بھید نہ پایا ساری رات ان کا امام اپنے ان فدائی مخلصین کی یادوں کا ایک ایسا گلشن ہے کہ جس کی عنبر بار خوشبو سے وہ اپنے من کو مہکائے رکھتا ہے اور اخلاص و وفا کے ان ساتھیوں کی محبت کا ذکر یوں کرتا ہے: گل بوٹوں، کلیوں پتوں سے، کانٹوں سے خوشبو آنے لگی اک عنبر بار تصور نے یادوں کا چمن مہکایا ہے کوئی احمدیوں کے امام سے بڑھ کر کیا دنیا میں غنی ہوگا ہیں سچے دل اس کی دولت، اخلاص اس کا سرمایہ ہے اور دنیا بھر میں بسنے والے ان عاشقوں سے یوں مخاطب ہوتا ہے: تمہاری خوشیاں جھلک رہی ہیں مرے مقدر کے زائچے میں تمہارے خونِ جگر کی ئے سے ہی میرا بھرتا ہے جام کہنا الگ نہیں کوئی ذات میری، تمہی تو ہو کائنات میری تمہاری یادوں سے ہی معنون ہے زیست کا انصرام کہنا اے میرے سانسوں میں بسنے والو! بھلا جدا کب ہوئے تھے مجھے سے خدا نے باندھا ہے جو تعلق رہے گا قائم مدام کہنا تمہاری خاطر ہیں میرے نغمے، مری دعائیں تمہاری دولت سے تر ہیں مرے سجود و قیام کہنا تمہارے درد و الم 25