سیلابِ رحمت — Page 252
ب رحمت لجنہ کے دفتر کے حوالے سے ایک اور نظم بھی دلچسپی کا سامان بن گئی۔ہوا یوں تھا کہ دفتر کی صفائیاں ہو رہی تھیں نئے اور مستعمل کپڑے خدمت خلق کے لئے پیک کیے جارہے تھے مگر نہ جانے کیا ہوا سب کو کھجلی شروع ہو گئی۔ہر ایک سمجھ رہی تھی کہ مجھے ہی کوئی الرجی ہوئی ہے۔آہستہ آہستہ علم ہوا کہ کسی ایک کو نہیں سب کو کھجلی ہو رہی ہے۔خاکسار کے لئے طبیعت مچلنے کا کافی سامان میسر ہو گیا اور ایک نظم ہوگئی : آخری شعر تھا۔چیونٹیاں چلنے لگی تھیں میرے سارے جسم پر کچھ الرجی کی طرح بے چینیاں تھیں جسم پر کیا ہوا ، کیا کیا ہوا، کیا نہ ہوا مت پوچھئے ہو سکے تو پیر کو دفتر میں آکر دیکھئے نظم سب کو پسند آئی پھر وہی شوق تازہ ہوا کہ میرے آقا بھی چند سیکنڈ محفوظ ہوں گے۔آپ نے واقعی لطف لیا تحریر فرمایا: لجنہ کے دفتر کی تفصیلی صفائی کے دوران آپ نے اچانک محسوس ہونے والی کیفیات اور خیالات کو جن الفاظ میں نظم کیا ہے وہ تو یوں لگتا ہے کہ جگہ جگہ ہونے والی خارش اور شدید سوزش کے نتیجہ میں جواچوی سی لگ جاتی ہے، یہ کلام اُسی کا نتیجہ ہے اور وہی کیفیت ہے جو نظم میں ڈھلتی چلی گئی ہے۔بہر حال نقشہ خوب کھل کر سامنے آ گیا ہے۔کوئی پہلو بھی آپ نے باقی نہیں چھوڑا۔الرجی کی حالت میں غالباً اس سے بہتر نظم کہنا مشکل ہے۔یہ نظم شامل اشاعت نہیں ہے) 66 250