سیلابِ رحمت — Page 246
اب رحمت اسی طرح دوسرا اور تیسر ا شعر بھی خاص ادا کے مالک ہیں۔پہلی غزل کی طرح اس غزل میں بھی آپ نے ایک ایسا شعر ایسے خاص انداز میں کہا ہے جو کوئی مرد شاعر نہیں کہہ سکتا خواہ کیسا ہی قادر الکلام کیوں نہ ہو۔یہ ایک ایسی خاتون کا کلام ہے جو گھر کے روز مرہ کاموں میں بھی عارفانہ نکتے سوچتی رہتی ہو۔وہ شعر یہ ہے؎ باہر من نہیں ہے ان تیلوں میں تیل باقی مجھے پہچان چھو کر ہو گئی ہے یہ چھو کر پہچان ایک ایسا خیال ہے جو ایک مرد شاعر کی رسائی سے معلوم ہوتا ہے۔بہر حال آپ کی یہ نظم بہت عمدہ اور لطیف خوبیوں سے مزین ہے۔اللہ آپ کو قلب و نظر کی مزید روشنی عطا فرمائے اور پہلے سے بڑھ کر خدمتِ دین کی توفیق عطا فرما تا رہے۔اللہ آپ کے ساتھ ہو اور اپنی حفاظت ورحمت کے سائے تلے رکھے۔“ ( مكتوب 90-7-4) مؤرخ احمدیت محترم مولانا دوست محمد صاحب شاہد کی گرفتاری کی خبر احباب جماعت پر بجلی بن کر گری۔بدخواہ ہاتھوں کی بے باکی سے دل ہل گئے۔ہر خبر پہلے سے سنگین آرہی تھی۔اپنے بس میں تو خدا تعالیٰ کے حضور فر یا دہی تھی۔ایک دن یہ فریاد نظم ہوگئی۔وہ دوست محمد کے ہیں ، شاہد ہیں خدا کے مولا نے انہیں گود میں رکھا ہے بٹھا کے پیارے حضور نے تحریر فرمایا: 244